سوال (6177)
کیا مچھروں سے بچنے کے لیے الیکٹرک راڈ استعمال کرنا درست ہے، شرعی رہنمائی کی درخواست ہے؟
جواب
اہل علم اس کی اجازت دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ جلانے والی چیز نہیں ہے، بلکہ کرنٹ لگا کر جان لے لیتی ہے، حالانکہ بجلی جلانے کی چیز ہے، میں طالب علم کی جو رائے ہے، وہ یہ ہے کہ میں اس کو صحیح نہیں سمجھتا ہوں، لیکن بہرحال ہمارے سارے مشایخ اس کی اجازت دیتے ہیں، لیکن یہ مشین جلاتی ہے، کاغذ کو نہیں جلاتی ہے، انسان کو بجلی جلاتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم یہ نقصان دہ ہے تو کیا اسکو مارا نہیں جاسکتا جبکہ اس لائٹ کے اندر آسانی سے آجاتا ہے اور تقریباً زیادہ تر مسجد میں بھی لگا ہوا ہے، اور ڈینگی کی وبا بھی اسی سے پھیل رہی، اس کے علاوہ دوسرے طریقے بھی اس کو مارنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں؟
جواب: مچھر کو مارا جا سکتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ الیکٹرک راڈ سے مارنا کیسا ہے۔ بجلی سے مارنا کیونکہ بجلی جلانے کی چیز ہے، ہمیں اختلاف ہے، لیکن علماء کرام اجازت دیتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: جزاک اللّہ خیرا۔
شیخ محترم کسی موذی جانور کو بھی کرنٹ سے جلا کر نہیں مارنا چاہیے جب دوسرے ذرائع موجود ہوں
جواب: ہمارا موقف یہ ہے کہ جو چیز جلاتی ہے، تو جلا کر مارنا نہیں چاہیے، یہ بات الگ ہے کہ جس کو کرنٹ لگا، مرا ہے، لیکن جلا نہیں ہے، لیکن عموماً بجلی جلا ہی دیتی ہے، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




