سوال        6737

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسجد نبوی کے اندر روضہ رسول ہے اس کے بارے میں وضاحت کر دیں، قبرستان میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے اور نہ ہی مسجد میں قبریں بنانا؟ اور جو قبر پر گنبد وغیرہ بنایا گیا ہے اس کی بھی وضاحت کر دیں۔ جزاکم اللہ خیر و احسن الجزاء فی الدنیا و الآخرۃ

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسجدِ نبوی اور قبرِ رسول ﷺ کا معاملہ استثنائی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ استثنا امت کے اتفاق اور اجماع کی بنیاد پر ہے۔ ابتداءً قبرِ مبارک مسجد سے الگ تھی، بعد کے ادوار میں جب توسیع عمل میں آئی تو یہ حصہ بظاہر حدودِ مسجد میں آ گیا، مگر حقیقتاً اسے اس طرح محفوظ اور محصور کیا گیا کہ وہ ایک بالکل الگ اور ممتاز ساخت بن گیا۔ مثلث انداز میں دیواریں بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے مسجد کا حصہ نہ سمجھا جائے۔
اسی بنا پر نہ تو عام قبروں کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوسری مسجدوں کو اس معاملے میں مثال بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک منفرد اور مخصوص صورت ہے جس کا حکم عام اصولوں سے الگ ہے۔
جہاں تک روضہ رسول ﷺ اور گنبدِ خضرا کا تعلق ہے، تو گنبد بعد کے زمانے میں غالباً چھٹی صدی ہجری میں بنایا گیا، اور اس کی اپنی کوئی مستقل شرعی حیثیت نہیں۔ تاہم اس کو چھیڑنا یا گرانے کی بات کرنا آج کے دور میں فتنہ و اضطراب کا سبب بن سکتا ہے، اسی لیے اہلِ علم اس باب میں سکوت اور حکمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اسی اصول کی مثال خود نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد میں ملتی ہے جب آپ ﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی تو میں کعبہ کو گرا کر ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کرتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات بہتر اور اصل سنت پر عمل کو بھی فتنہ کے اندیشے کی وجہ سے مؤخر کیا جاتا ہے۔
لہذا شریعت میں صرف حکم ہی نہیں، بلکہ مصلحت، حکمت اور امت کے حال کو بھی پیشِ نظر رکھا جاتا ہے، اور بعض معاملات میں خاموشی ہی سب سے درست رویہ ہوتی ہے۔
مسجد نبوی کے اندر روضہ رسول نہیں بلکہ روضۃ من ریاض الجنۃ ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ