سوال (3638)
مسجد کے اندر کاروباری حضرات کا آپس میں بیع کرنا کیسا ہے، مثلا پراپرٹی ڈیلر مسجد میں بیٹھ ایک زمین خریدنے والے کو سامنے بٹھا کر بات طے کرتے ہیں کہ اتنے کا مرلہ ہم آپ کو دیں گے اس طرح کا عمل کیسا ہے؟ اگر کوئی حوالہ مل جائے تو اچھا ہوگا۔ جزاکم اللہ
جواب
مسجد کو باقاعدہ محل تجارت بنانا یہ منع ہے، اس کی کئی روایات موجود ہیں، باقی کبھی کوئی ڈیل ہوگئی ہے تو وہ مبنی بر کراہیت ہے، علماء نے تحریم کا فتویٰ نہیں دیا، وہ تجارت اگر ہوگئی ہے تو وہ صحت کے اعتبار سے قابل قبول ہے، اس کو عادتاً اختیار نہ کیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ!
ایک سوال ہے کہ مسجد میں کاروبار کرنا کیسا ہے؟ جیسا کہ ائمہ یا مؤذنین شھد وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ تفصیلی جواب درکار ہے۔
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مسجد میں کاروبار کرنے کا حکم سب کے لیے ایک جیسا ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسجد میں کاروبار کرنا جائز نہیں، کیونکہ مسجد عبادت کی جگہ ہے کاروبار کی نہیں!
ایسا شخص جو ہر وقت مسجد میں رہتا ہے یا جس کی رہائش مسجد میں ہے، وہ اپنی رہائش گاہ میں یا مسجد سے باہر نکل کا یہ کام سر انجام دے سکتا ہے۔
فضیلتہ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
مسجد کے اندر کاروبار کرنا یا چیزیں بیچنا جائز نہیں ہے۔ البتہ، ان چند صورتوں میں گنجائش نکل سکتی ہے:
۱. مسجد کی حدود سے باہر:
اگر آپ مسجد کے مین گیٹ سے باہر (جو جگہ مسجد کا حصہ نہیں ہے) میز لگا کر مسواک یا کوئی اور چیز بیچتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۲. رہائشی کمرہ:
اگر مسجد کی طرف سے کسی کو رہنے کے لیے کمرہ یا گھر ملا ہوا ہے، تو وہ وہاں اپنا کام یا کاروبار کر سکتا ہے۔
۳. فالتو جگہ یا کمرہ:
اگر مسجد میں کوئی ایسی جگہ، چھت یا کمرہ ہے جو ابھی نماز کے لیے استعمال نہیں ہو رہا، تو اسے کرائے پر لے کر وہاں کام کیا جا سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ اس کا باقاعدہ کرایہ دیا جائے جو مسجد کے فنڈ میں جمع ہو اور مسجد کے کاموں پر ہی خرچ ہو۔
بات کا خلاصہ یہ ہے: جہاں باقاعدہ نماز پڑھی جاتی ہے، وہاں کسی بھی قسم کی تجارت یا کاروبار کی اجازت نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




