سوال 6623
مسجد کے اندر سے گزر گاہ بنانا کیسا ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔
جواب
گزارش یہ ہے کہ جہاں نماز ادا کی جاتی ہے وہاں سے لوگوں کا گزرنا ویسے بھی ممکن نہیں ہوتا، عام طور پر آمد و رفت کے لیے ایک ہی جانب سے راستہ مقرر ہوتا ہے۔ اگر اس راستے کو بند کر دیا جائے تو لوگوں کو متبادل طور پر طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس میں بلا وجہ مشقت ہے، اور شریعت میں ایسی تنگی مقصود نہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مسجد کو گزرگاہ بنانے سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے، تو یہاں مسجد کو گزرگاہ بنانا مقصود ہی نہیں۔ راستہ پہلے سے ایک جانب متعین ہے اور محض لوگوں کی سہولت کے لیے استعمال ہو رہا ہے، نہ کہ مسجد کے اندر سے عام آمد و رفت ہو۔
لہذا بظاہر اس صورت میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، ان شاء اللہ۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
جیسا کہ دی گئی تصویر سے ظاہر ہے، اس صورت میں بظاہر کوئی حرج نہیں۔ ضرورت کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے، البتہ شوقیہ اور بلا ضرورت اس کو معمول نہ بنایا جائے۔
امام بخاریؒ نے باب: المرور في المسجد قائم فرمایا ہے اور اس کے تحت حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو شخص ہمارے بازار یا مسجد سے گزرے، وہ اپنے نیزے کی نوک سنبھال کر رکھے، اس کا رخ نیچے کی طرف رکھے یا اسے نیام میں ڈال لے، تاکہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
اسی طرح قرآن میں ﴿إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ﴾ کے الفاظ بھی ملتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت گزرنے کی اجازت ہے۔
لہذا جب راستہ واقعی ضرورت کے تحت بنایا گیا ہو اور لوگوں کی سہولت مقصود ہو، تو اس میں شرعاً کوئی قباحت دکھائی نہیں دیتی، ان شاء اللہ۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




