سوال     6705

صحیح مسلم کی حدیث 1254 نبی ﷺنے فرمایا جس نے پیاز لہسن کھایا اس کے قریب فرشتے نہیں آتے ہر روز کہ معمول کہ مطابق ہم سب انسان یہی اشیاء استعمال کرتے رہتے ہیں اور موت کے وقت بھی جس نے پیاز لہسن کھا لے پھر کیسے فرشتے نازل ہوجاتے ہیں؟

جواب

حدیث میں اصل بات یوں آئی ہے کہ مسجد میں کچا لہسن یا کچی پیاز کھا کر نہ آیا جائے، کیونکہ جس چیز سے ابنِ آدم کو تکلیف ہوتی ہے، اسی سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ معمول تھا کہ اگر کوئی شخص کچا لہسن یا پیاز کھا کر مسجد آ جاتا تو اسے مسجد سے باہر بھیج دیتے، یہاں تک کہ بعض اوقات اسے بہت دور، حتیٰ کہ قبرستان کی طرف چھوڑ کر آتے۔
البتہ اگر لہسن یا پیاز پکا کر کھائی جائے تو اس کی اجازت ہے، کیونکہ اس صورت میں بدبو ختم ہو جاتی ہے۔
اس ضمن میں یہ اضافہ کرنا بھی درست ہے کہ کچے لہسن اور کچے پیاز سے متعلق جو حدیث آئی ہے، وہ ایک خاص جگہ کے لیے ہے، یعنی مسجد۔ اور ظاہر ہے کہ وہاں آنے والے فرشتے بھی مخصوص ہوتے ہیں۔ یہ بات نہیں کہ ہم اس حدیث کو اس طرح عام کر دیں کہ گویا سارے فرشتے اسی ایک حکم میں بندھ گئے ہوں۔
اس کی مثال اہلِ علم اس طرح دیتے ہیں کہ ایک شخص مذاق اڑاتے ہوئے کہتا تھا: میں اپنے ساتھ کتا رکھتا ہوں، کیونکہ جہاں کتا ہو وہاں فرشتے نہیں آتے، تو فرشتہ موت مجھے لینے کیسے آئے گا؟ تو جواب دیا گیا کہ فرشتہ تو آئے گا، مگر وہ جو کتے کی روح نکالتا ہے، وہی تیری بھی نکال لے گا۔
اسی طرح یہاں بھی معاملہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حدیث کا ایک خاص پس منظر ہے، خاص جگہ ہے اور خاص فرشتے ہیں۔ اس کو بلا دلیل اتنی عمومیت دینا کہ نعوذ باللہ یوں سمجھا جائے کہ ملکُ الموت ہی فارغ ہو جائے گا، یہ درست نہیں، بلکہ لا عِلمی کی انتہا ہے۔
لہٰذا حدیث کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے جس کے لیے وہ وارد ہوئی ہے، غیر ضروری اور غلط تطبیق سے بچنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

عمدہ توضیح تو شیخ صاحب نے کر دی ہے۔
غور کریں کہ کبھی پکے ہوئے لہسن، پیاز کھانے سے بو آتی ہے؟
اصل چیز بو کا آنا ہے یہ زائل ہو جائے تو کھا سکتے ہیں۔ انسانی عقل نہایت ناقص و محدود ہے اس لئے اپنی عقل کو قرآن وحدیث کی نصوص کے سامنے مت لائیں۔ ملک الموت ہر صورت حضرت انسان تک پہنچ جائیں گے قرآن وحدیث ہمیں یہی بتاتے ہیں اور اس پر ہی ایمان لانا فرض ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ