سوال (4127)
کیا مسجد اور مدرسہ کی تعمیر میں زکوۃ کا پیسہ استعمال ہو سکتا ہے؟
جواب
اس میں تین موقف ہیں:
1۔ دونوں جگہ زکاۃ کا استعمال ہو سکتا ہے.
2۔ دونوں جگہ نہیں ہو سکتا.
3۔ مسجد میں زکاۃ استعمال نہیں ہو سکتی، مدرسہ میں ہو سکتی ہے۔
لجنۃ العلماء للإفتاء اور عموما مشایخ اہل حدیث کا یہی تیسرا موقف ہے۔ پہلا موقف بھی کچھ مشایخ کا ہے، دوسرے موقف کے حاملین مزید کم ہیں۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مشائخ ایک سوال ہے کہ کیا فرضی زکوٰۃ مساجد اور مدارس کو لگتی ہے اس پر قرآن و حدیث میں کوئی واضح نص ہو تو راہنمائی فرما دیں؟ شکریہ
جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میری محدود مطالعہ اور فہم کے مطابق، مسجد کی تعمیر، ترقی، ایئر کنڈیشن اور اس طرح کے دیگر لوازمات کے لیے مطلقاً زکوٰۃ خرچ کرنا راجح قول نہیں بلکہ مرجوح ہے۔ عرب کے علما بھی اس کی اجازت نہیں دیتے۔
ہمارے یہاں بعض اوقات یہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ جب مدرسے کا نام آتا ہے تو گویا سب کچھ جائز ہو گیا، حالانکہ اصحابِ صفہ کی اصل ہدایت یہ ہے کہ زکوٰۃ صرف اُن مستحقین پر خرچ ہو جو فقیر اور مسافر ہوں اور اللہ کے راستے میں محدود ہوں:
“لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الأَرْضِ”
لیکن موجودہ حالات میں اکثر مدارس میں یہ نظام بگڑ گیا ہے۔ عمارتیں شاندار بنائی جا رہی ہیں، ہزارہا لوازمات لگائے جا رہے ہیں، اور اس کا زیادہ فائدہ ذمہ داران یا مخصوص طبقے اٹھا رہے ہیں، جبکہ اصل مستحق یعنی طلباء، مسافر اور علماء کم یا بالکل مستفید نہیں ہو رہے۔
اس لیے زکوٰۃ کے حقیقی مقصد کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اسے صرف ان لوگوں پر خرچ کیا جانا چاہیے جو فقیر، مسافر اور اللہ کی راہ میں محتاج ہوں، نہ کہ کسی مخصوص طبقے کے ذاتی فائدے کے لیے۔ واللہ أعلم
الامام ابن باز
الجواب: الصواب أنه لا تنفق الزكاة للمساجد، الصواب عند جمهور أهل العلم أن الزكاة لا تصرف في المساجد، تصرف في الأصناف الثمانية التي بينها الله، في قوله: (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ) أي: الزكوات {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ} [التوبة: 60] هذه مصارف الزكاة، ليس منها المساجد، والمدارس، لا، في سبيل الله الجهاد.
مزید تفصیلات کے لیے لنک ملاحظہ فرمائیں: Check out this video, “صرف الزكاة في بناء الجامعة” https://share.google/1LK5ry1rNJqGVG3Qm
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




