سوال          6904

قرآنِ کریم میں سفر کی حالت میں روزہ چھوڑنے کی رخصت دی گئی ہے۔ پہلے زمانے میں سفر طویل اور دشوار ہوتا تھا، لیکن آج کے دور میں جدید سہولیات (تیز رفتار گاڑیاں، اے سی وغیرہ) موجود ہیں اور مثلاً اوکاڑا سے لاہور کا سفر تقریباً دو گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔
ایسی صورت میں کیا آج بھی سفر کی بنیاد پر روزہ چھوڑنے کی رخصت باقی ہے یا نہیں؟

جواب

وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
سفر میں روزہ چھوڑنے کی رخصت ہر زمانے کے لیے ہے۔ آج بھی کوئی سفر کرے اور وہ کتنا ہی آرام دہ ہو، وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے۔
البتہ یہ رخصت ہے جس پہ عمل کرنا جائز بھی ہے اور اگر عمل نہ کیا جائے تو پھر بھی درست ہے۔
اس زمانے میں بھی سفر کے اندر بعض صحابہ کرام روزہ رکھ لیتے تھے۔

ولم يعب المفطر على الصائم ولا الصائم على المفطر.

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

ایسی ہی نوعیت کا سوال حضرت عمر رضی اللّہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته”

یہ صدقہ (رعایت) ہے جو اللّہ نے تم پر کیا ہے اس لیے تم اس کا صدقہ قبول کرو۔

فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ