سوال 6876
السلام علیکم! سوشل میڈیا پر ایک قول امام احمد بن حنبلؒ کی طرف منسوب کر کے شیئر کیا جا رہا ہے کہ: “مولوی کو کاروبار سکھائیں ورنہ وہ دین بیچے گا۔” اس کی حقیقت کیا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
پہلی بات تو یہ ہے کہ علمی اور تاریخی طور پر اس قول کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ ان “سوشل میڈیائی باتوں” میں سے ہے جو دین بیزار طبقہ خود گھڑتا ہے اور پھر اسے کسی بڑی شخصیت کے نام سے منسوب کر دیتا ہے تاکہ لوگ اسے مستند سمجھ کر قبول کر لیں۔
عقلی اور منطقی پہلو سے بھی اس کا جائزہ لیں تو یہ بات بالکل لایعنی معلوم ہوتی ہے:
1. دنیا کا کوئی بھی شعبہ ہو، اس میں مہارت کے لیے مکمل وقت اور توجہ درکار ہوتی ہے۔ اگر ہم اس منطق کو مان لیں، تو پھر ہمیں یہ بھی کہنا پڑے گا کہ:
* ججوں اور وکلاء کو کاروبار سکھاؤ، ورنہ وہ “انصاف” بیچیں گے۔
* ڈاکٹروں کو دکان داری سکھاؤ، ورنہ وہ “صحت و انسانیت” پر کاروبار کریں گے۔
* حج وعمرہ کی سہولیات فراہم کرنے والوں کو الگ سے بزنس کرواؤ، ورنہ وہ “عبادات” بیچیں گے۔
2. حقیقت یہ ہے کہ دین کی خدمت (چاہے وہ تدریس ہو، امامت ہو یا کوئی اور دینی کام) ایک کل وقتی ذمہ داری ہے۔ اسلام میں خدمتِ دین پر معاوضہ لینا، وقت دینے کا بدلہ ہے، دین کا سودا نہیں ہے۔ جس طرح ایک جج کو تنخواہ اس لیے دی جاتی ہے تاکہ وہ فارغ البال ہو کر انصاف کر سکے، اسی طرح دینی طبقے کی کفالت اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ یکسوئی سے علمی و تحقیقی کام کر سکیں۔
3. عجیب بات ہے کہ جب ایک آئی ٹی انجینئر اپنی سروسز کے پیسے لیتا ہے تو اسے “پروفیشنلزم” کہا جاتا ہے، لیکن جب ایک عالم دین اپنے وقت اور محنت کا حق مانگتا ہے تو اسے “دین فروشی” کا طعنہ دیا جاتا ہے۔
بہر صورت یہ قول سراسر من گھڑت ہے اور اس کا مقصد صرف علمائے کرام کی تضحیک اور انہیں نفسیاتی دباؤ کا شکار کرنا ہے۔ دین کی خدمت ایک عظیم منصب ہے، اور جو مخلصین یہ کام کر رہے ہیں، ان کی قدر کرنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
“إن أحق ما أخذتم عليه أجراً كتاب الله”
ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص دعوت و تبلیغ کا کام کر رہا ہے اور اس کے بدلے میں حکومت، ادارہ، جماعت، تنظیم یا کسی کمیٹی کی طرف سے اس کے لیے دنیاوی امور کا انتظام کر دیا جائے تاکہ وہ مستغنی ہو کر دین کی خدمت کر سکے، تو یہ اس کے لیے اللہ کا فضل ہے۔
یہ کہنا کہ وہ “دین بیچ رہا ہے” — یہ بات انسان کی نیت پر موقوف ہے۔ اصل دارومدار نیت پر ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس مسئلے کو بعض اوقات لوگوں کو دین سے دور کرنے کا ذریعہ بھی بنا لیا جاتا ہے۔ مدارس اور دینی طبقے کو دنیاوی مشاغل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ اصل مقصد متاثر ہو جائے۔ اب مدارس میں بھی تعلیم کے ساتھ ہنرمندی کا اہتمام کیا جا رہا ہے، اور دینی طبقے میں بھی بچوں کو مختلف ہنر سکھانے کا رجحان ہے۔ اگر اس سے اصل مقصد یعنی دین کی خدمت اور دعوت — میں حرج واقع ہو تو یہ مناسب نہیں۔
البتہ اگر اصل اپنی جگہ قائم ہے اور دنیاوی تعلیم یا ہنر اس میں رکاوٹ نہیں بن رہا تو پھر اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ ہونا چاہیے۔ ہمارے اسلاف میں بھی یہ چیز موجود تھی۔
مجھے یاد ہے کہ شیخ مبشر الربانی رحمہ اللہ اور استادِ محترم شیخ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ مختلف ہنر جانتے تھے، جیسے وائرنگ، چارپائی بنانا وغیرہ۔ ایک مرتبہ استادِ محترم ہمارے پاس پروگرام میں آئے۔ دوپہر کو پہنچ کر فرمانے لگے: “آؤ علی، چلیں بازار۔” ہم ساتھ گئے، سوٹ کا کپڑا لیا۔ میں نے چاہا کہ درزی کو دے دوں، تو فرمانے لگے: “نہیں، مجھے مشین لا کر دو۔” ہم نے مشین لا دی، اور استاد جی نے دو گھنٹوں کے اندر اپنا سوٹ خود تیار کر لیا۔
لہذا ہنر آنا چاہیے، لیکن ہنر کی وجہ سے دعوت، تبلیغ اور اصل کام میں حرج نہیں آنا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
فضیلۃ العالم حافظ علی عبداللہ حفظہ اللہ




