سوال 6697
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ!
کیا فوتگی کے بعد میت کے لگوائے ہوئے مصنوعی دانت نکالنا/توڑنا لازمی ہیں؟ اسی طرح دوسرے تبدیل شدہ اعضاء (دل/گردے/ جگر) وغیرہ کا کیا حکم ہوگا؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری معلومات کے مطابق اہلِ علم کے فتاویٰ کی روشنی میں، مصنوعی دانت نکالنے کی کوئی حاجت نہیں ہے، اور اسی طرح اعضا نکالنے کی بھی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں۔ اس سلسلے میں حدیث میں آتا ہے:
«کسرُ عظمِ المیت ککسرہ حیا»
یعنی مردہ کی ہڈی کو نقصان پہنچانا یا توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی کو توڑنا یا نقصان پہنچانا۔
اگرچہ اس تکلیف کا ہمیں احساس نہیں ہوتا، مگر اسے تکلیف ہوتی ہے، جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
البتہ اگر دانت سونے یا چاندی کے ہوں تو اس صورت میں معاملہ مختلف ہو جاتا ہے، کیونکہ پھر وہ ضائع ہو جائیں گے، اور مال کا ضیاع اللہ کو پسند نہیں۔ لہٰذا اگر ایسی کوئی چیز سونے یا چاندی کی ہو تو اسے نکال لیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




