سوال (4074)
اگر کوئی شخص رمضان کے ایام میں بیمار ہو جائیں اور مسلسل بیماری میں مبتلاء ہو اور رمضان کے بعد فوت ہو جائیں تو کیا اس کے ولی قضاء دے گہے اس کی طرف سے یا پھر فدیہ دے، سوال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر رمضان کے ایام میں بیمار ہو جائیں اور بعد میں اس کی طبعیت صحیح ہو جائیں اور سستی کی بناء پر ان کی قضاء نہ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
دونوں صورتوں میں فدیہ ہی ہے، میت کی طرف سے جن روزوں کا ذکر ہے، وہ نذر کے روزے ہیں، رمضان کے روزے فرض ہیں، قضاء دینا چاہیے تھا، نہیں دے سکیں ہیں، اب دونوں صورتوں میں ولی اور وارث فدیہ دیں گے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
فوت شدگان کی طرف سے ورثاء روزے رکھیں گے یہ ثابت ہے۔
“من ماتَ وعليه صِيامٌ صامَ عنْه ولِيُّهُ” [بخاری : 1952]
جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اُس کے ذمّے روزے فرض تھے تو اُس کا ولی اُس کی طرف سے روزے رکھے۔
لیکن اس میں تفصیل ہے اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں:
1: اگر تو والدین دائمی مریض تھے یا بوڑھے تھے تو ان پر روزے فرض ہی نہیں تھے بلکہ فدیہ دینا کافی ہے، اگر نہیں دیا تو اب اولاد دے دے۔
2: اگر وہ بیمار تھے لیکن صحت یابی کی امید تھی اور صحت یاب ہونے سے پہلے ہی فوت ہوگئے تو ان کی طرف سے نہ فدیہ ہے ناہی روزے رکھیں گے۔
3: اگر عارضی بیمار تھے لیکن فوت ہونے سے پہلے کچھ ایام صحت یابی کے گزارے جن میں قضاء دے سکتے تھے لیکن نہیں دی تو ایسی صورت میں ورثاء میت کی طرف سے روزے رکھیں گے۔[بخاری : 1952]
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
غير متفق تماما۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: یہ دوسری صورت سمجھ میں نہیں آئی ہے کہ نہ فدیہ دے گا اور نہ ہی قضاء دے گا؟
جواب: اس لیے کہ روزہ چھوڑنے کی رخصت شریعت نے دی تھی مریض کو۔ کہ بعد میں قضا دے دی جائے. [البقرہ : 184]
کیونکہ عارضی مریض جس کے صحت یاب ہونے کی امید تھی اس پر فدیہ نہیں ہوتا بلکہ قضا ہوتی۔ اور قضا دینے کا اس پر وقت ہی نہیں آیا کہ وہ قضا دیتا وہ اس سے پہلے ہی فوت ہوگیا۔ اس لیے اس کی طرف سے فدیہ دینے یا اس کی طرف سے ورثاء کے روزہ رکھنے کی کوئی صورت نہیں بنتی۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ