سوال 6983

کیا میت کو قبر میں پہلو کے جانب لٹانا درست ہے یا سیدھا براہ کرم راہنمائی فرمائیے گا؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میت کو سیدھی کروٹ پر لٹانا چاہیے، یہی اولیٰ ہے یہی مسنون ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: یعنی بلکل سیدھا؟
جواب: دائیں کروٹ میں، جیسے انسان لیٹتا ہے، اسی طرح اسے لٹا دیا جائے، اور پیچھے اس کو کوئی سہارا دے دیا جائے، جیسے اینٹ یا پتھر۔ عام طور پر لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا، حالانکہ ہونا اسی طرح چاہیے۔
اور اگر یہ دائیں کروٹ قبلہ رخ ہو تو یہ اور بھی بہتر ہے۔ لیکن اب قبروں کا رخ کدھر ہے، اس کا ہر جگہ ایک جیسا تعین نہیں، مختلف علاقوں میں اپنے اپنے انداز سے قبریں بنتی چلی جا رہی ہیں، بہرحال۔ پھر بعض علماء اس میں یہ گنجائش بھی نکالتے ہیں کہ اگر دائیں کروٹ پر لٹانا ممکن نہ ہو تو کم از کم چہرہ اس کا دائیں طرف، یعنی قبلہ رخ کر دیا جائے۔ بہرحال، تدفین تو ہر صورت میں ہو ہی جائے گی۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ