سوال

ایک شخص بیرون ملک رہتا ہے، اور اس کی بیوی چالیس دن کے لیے پاکستان آ رہی ہے، اس نے از راہ مزاح بیوی کو کہہ دیا کہ ’ اب آپ کو چالیس دن کے لیے طلاق‘۔

بے دھیانی میں اس نے یہ لفظ کہہ تو دیا ہے، لیکن اب وہ فکرمند ہے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس طرح طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے مذاق میں یہ جملہ کہہ دیا کہ“اب آپ کو چالیس دن کے لیے طلاق” تو یہ الفاظ طلاق کے لیے صریح ہیں۔ شرعی طور پر صریح الفاظِ طلاق میں نیت اور مزاح سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ:‏‏‏‏ النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَةُ. [سنن أبی داؤد: 2194]

تین باتیں ایسی ہیں اگر کوئی ان کو حقیقت اور سنجیدگی میں کہے، تو حقیقت ہیں اور ہنسی مزاح میں کہے ، تو بھی حقیقت ہیں۔ نکاح ، طلاق اور ( طلاق سے ) رجوع۔

اس بنا پر اس شخص کے مذکورہ الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ہے۔

جہاں تک “چالیس دن کے لیے” کہنے کا تعلق ہے، تو اسکی یہ بات لغو ہے اور یہ جملہ حقیقتِ طلاق کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ کیونکہ طلاق کسی مدت کے ساتھ معلق نہیں ہوتی کہ اتنے دن کے لیے ہو جائے اور پھر خود بخود ختم ہو جائے، بلکہ طلاق تو ایک مستقل حکم ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے، بیوی عدت میں ہے۔ شوہر عدت کے اندر اندر رجوع کر سکتا ہے۔

شوہر کو آئندہ چاہیے کہ لفظِ طلاق کے استعمال میں احتیاط کرے، کیونکہ یہ الفاظ شرعی طور پر بہت سنگین ہیں، ایسے صریح الفاظ سے مذاق میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ