سوال 6687
اگر کوئی بڑی چالاکی سے کسی کا حق کھا لے اور یہ کہے کہ ‘میں نے کسی کا کچھ دینا نہیں اور نہ ہی کسی کا حق کھایا ہے، تو جس کے ساتھ ایسا ہوا ہے وہ بس اللہ سے دعا کر سکتا ہے کہ اللہ پاک خود اس کا حساب پوچھ لے گا اس جہان میں بھی اور اس جہان میں بھی۔ کیا اللہ کے ہاں اس مجبور انسان کی دعا سنی جاتی ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اسلام میں مظلوم کی بددعا سے سختی کے ساتھ بچنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ مظلوم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ چاہے مظلوم مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کی فریاد اللہ کے ہاں خاص مقام رکھتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ» (بخاری، مسلم)
ترجمہ: مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




