سوال        6822

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
شیخ محترم! بعض لوگ میمِ ساکن پر ہر جگہ غنہ یا اخفاء کرتے ہیں، حالانکہ تجوید کے مطابق میمِ ساکن کے تین الگ احکام ہیں۔ یہ غلطی کیوں ہوتی ہے اور اس کی درست صورت کیا ہے؟ اس سوال پر قاری صاحبان ضرور نظر فرمائیں

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میم اور نون کے اندر صفت غنہ پائی جاتی ہے۔ یعنی نون اور میم ساکن ہو یا متحرک ان کے اندر لازماً غنہ پایا جاتا ہے۔
البتہ غنہ کے مراتب مختلف ہوتے ہیں۔
1.اکمل (ن م مشدد، ادغام شفوی، بغنہ)
2.کامل (اخفاء حقیقی، شفوی، اقلاب)
3.ناقص (اظہار حلقی، شفوی، مطلق)
4.انقص ( ن م متحرک)
(ان مراتب کا فرق سمجھنے کے لیے استاد کی ضرورت ہے)
یہ غلطی تجوید کا علم کم ہونے کی وجہ سے ہوسکتی ہے، جو تجوید کا علم رکھتا ہو وہ یہ غلطی نہیں کرتا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم و رحمۃ اللہ! وبرکاتہ شیخ محترم ہمارے جو سعودی مشائخ ہیں شیخ مشاری یا سعود الشریم تو ان میں بھی فرق ہے وہ کچھ جو ہیں میم ساکن پر اخفاء کرتے ہیں کچھ غنہ کرتے ہیں میں نے دیوبندی قاری سے پڑھا ہے وہ جو ہیں میم ساکن پر وہ غنہ کرواتے تھے تو جو اہل حدیث قاری صاحب جو استاد ہیں میرے وہ اخفاء کرواتے ہیں تو اسی کا میں فرق سمجھنا چاہتا ہوں کہ کچھ سعودی قاری حضرات بھی جو ہے نا وہ میم ساکن پر غنہ ہی کرتے ہیں اس کے متعلق وضاحت فرما دیں جزاک اللہ خیرا۔
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! عام طور پر میمِ ساکن کے تین ہی قواعد بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر میم کے بعد با آجائے تو اسے اخفاء کہتے ہیں، اور اس میں معمولی سا غنہ ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر میم کے بعد میم آئے تو ادغام ہو جاتا ہے اور بھرپور غنہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے؟ اس بات کو سمجھنا بہرحال ضروری ہے۔
اور اگر میم اور با کے علاوہ کوئی اور حرف آجائے تو وہاں اظہار ہوتا ہے، مگر انتہائی خفیف انداز میں؛ جیسے: الحمدُ۔ ٹھیک ہے؟ یہ چیز دراصل ایک قاری کی باقاعدہ مشق سے ہی صحیح طور پر حاصل ہو سکتی ہے۔
اب رہ گیا اختلاف کا مسئلہ: عربوں کے درمیان بھی فرق پایا جاتا ہے، عجم میں بھی فرق ہوتا ہے، اسی طرح احناف اور اہلِ حدیث کے ہاں بھی بعض جزئیات میں اختلاف نظر آتا ہے۔ ہر ایک کی اپنی توجیہ ہوتی ہے، اور مختلف توجیحات موجود ہیں۔ یہ قواعد و کلیات دراصل انسانوں کے مرتب کیے ہوئے ہیں، لہذا ان میں علمی توجیہات کا پایا جانا فطری امر ہے۔
جیسے حدیث کے اعراب اور ضبط میں کبھی فرق آجاتا ہے؛ بسا اوقات ایک ہی نام مختلف انداز سے پڑھا جاتا ہے: مروزی، مِروزی؛ راہبہ، راہویہ؛ اور اسی طرح امام نووی، نووی(زبر اور زیر کے ساتھ) وغیرہ۔ یہ سب اختلاف اسی نوعیت کے ہیں۔
لہذا اس معاملے میں کسی سختی کی ضرورت نہیں، ان شاء اللہ۔ آپ نے جس طرح سیکھا ہے اور جس قاعدے کے مطابق پڑھا ہے، اگر وہ مستند طریقے سے ہے تو وہی آپ کے لیے کافی ہے۔ آپ اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ میں نے اسی طرح پڑھا ہے، اور یہی میرے لیے معتبر ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ