سوال         6766

اگر کوئی شخص عمرے کے لیے گیا اور میقات کے مقام پر احرام باندھنا تھا لیکن بے خیالی یا اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے وہ احرام کے بغیر ہی میقات کراس کر گیا، اور اس کے ساتھی یا انتظامیہ نے اسے وقت پر نہیں بتایا، تو اس صورت میں اس پر کیا واجب ہے؟ کیا اسے کوئی فدیہ، جرمانہ یا دیگر کفارہ ادا کرنا ہوگا؟

جواب

یہ جو ہم الفاظ کا سہارا لیتے ہیں، بے خیالی میں میقات پار کر گیا، اس کو پتا نہیں تھا، اس کو کسی نے بتایا نہیں، یہ ساری کی ساری باتیں صرف اور صرف اپنے غافلانہ رویے پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم لوگوں کے نزدیک دین کی اہمیت ہی کوئی نہیں۔ ہمارے ہاں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے، ‘اللہ اللہ خیر صلی کچھ نہیں ہوتا’۔ اس لفظ کا سہارا لے کر ہم دین کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا نہیں اس سے بھی بدتر سلوک کرتے ہیں۔ جو آدمی عمرے پر جا رہا ہے، اس کے علم میں یہ بات تو ہونی چاہیے کہ میں نے عمرہ کیسے ادا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ جہاز کے اندر بیٹھے ہوتے ہیں اور جب کہا جاتا ہے بھائی جان آپ نے احرام نہیں پہنا، تو کہتے ہیں جدہ جا کے پہن لیں گے، مکہ جا کے پہن لیں گے۔ اور اگر کہا جائے کہ بھائی یہ شرعی طور پر جائز نہیں، تو کہتے ہیں جی کیسے جائز نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نیتوں کو بہتر جانتے ہیں۔ بہرحال، مسئلے کا حل جو ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ جو آدمی حج یا عمرہ کرنا چاہتا ہے، میقات کی حدود سے آگے نکل جاتا ہے، اس کو ایک دم دینا پڑے گا، ایک جانور ذبح کرنا پڑے گا حدودِ مکہ میں اور فقراءِ مکہ میں تقسیم کرنا پڑے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

سائل: ماشاء اللہ بڑے اچھے طریقے سے آپ نے وضاحت فرما دی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ خیر و عافیت عطا فرمائے ماشاءاللہ بڑی اچھی رہنمائی آپ نے فرمائی ہے۔ لیکن عرض یہ ہے کہ دم دینا ہے تو وہ دم عمرہ کی ادائیگی اور اس کے ارکان وغیرہ ادا کرنے کے بعد دے گا، احرام کھولنے کے بعد یا جاتے پہلے دم دے گا۔ جزاک اللہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے وضاحت فرما دیں۔
جواب: میرے عزیز، یہ کام جتنی جلدی ممکن ہو سکے کریں۔ جتنی جلدی ہو سکے، اسے ادا کرنا ضروری ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ