سوال (5511)

میزان بینک میں شریعہ بورڈ پر مضاربت پیسے انویسٹ کیے ہوئے ہیں، اس میں یہ بھی ہے کہ نفع و نقصان میں ہمارے ساتھ شریک ہیں تو کیا اس میں زکاۃ ہے؟

جواب

ہماری قابل احترام بہن صاحبہ نے ایک سوال پوچھا ہے اور سوال سے پہلے دو فتاوی بھی دیئے ہیں پہلا فتوی کہ میزان بینک میں عین شریعت کے مطابق کاروبار ہوتا ہے اس میں سود بالکل نہیں ہوتا دوسرا فتوی کہ تجارت والے سامان پہ زکوۃ نہیں ہوتی ہے۔
جہاں تک پہلے فتوی کا تعلق ہے تو سوال سے یہی لگتا ہے کہ ہماری بہن بالکل خلوص نیت سے یہ سمجھتی ہیں کہ میزان بینک میں عین شریعت کے مطابق کام ہوتا ہے حالانکہ یہ انکی کم علمی ہے میزان بینک ہو یا کوئی اور اسلامی بینک ہو کہیں بھی شریعت کے مطابق کاروبار نہیں ہو رہا۔ جو مشارکہ اور مضاربہ کی بات کی گئی ہے تو ایسا کوئی بھی پروڈکٹ میزان بینک کا نہیں ہے جو مشارکہ یا مضاربہ کی شرائط کے مطابق کام کر رہا ہو فتوی میں انکے شریعہ بورڈ کا حوالہ دیا گیا ہے تو یہ بتا دوں کہ اسکے شریعہ بورڈ نے ہی یہ بات مانی ہوئی ہے کہ مکمل مضاربہ اور مشارکہ کے مطابق بینک کام نہیں کر سکتا کیونکہ بینک نے لوگوں کے پیسوں کو آگے فیکٹریوں وغیرہ میں لگا کر کمائی کرنی ہوتی ہے اگر مضاربہ اور مشارکہ پہ پیسے کسی فیکٹری کو دے گا تو فیکٹری والے نقصان ظاہر کرنے میں ماہر ہوتے ہیں جیسے وہ ٹیکس والوں کو نقصان دکھا دیتے ہیں پس بینک اس طرح منافع کما نہیں سکتا پس بینک کو کچھ داو پیچ چلانے پڑتے ہیں اور انہیں داو پیچ سے وہ بینک کا مشارکہ مضاربہ والا کاروبار نہیں رہتا بلکہ وہ سود بن جاتا ہے۔
میں خود انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ آف پاکستان کا افیلیئیٹ ہوں اور میں لاہور میں انکی میں برانچ میں اپنے کلائنٹ کے ساتھ ڈسکس کرنے گیا تھا انہوں نے بتایا کہ ہم آپ کو جب ایک کروڑ کی کوئی چیز خرید کر دینا چاہتے ہیں تو عام بینک کی طرح ہی سود کی کیلکولیشن کرتے ہیں البتہ ہم اس سود کی رقم کا کوئی نہ کوئی حیلہ کر لیتے ہیں فرض کیا کہ دیتے ہیں کہ یہ ایک کروڑ کی گاڑی ہم تم کو دیتے ہیں تم جو اسکی قسط دو گے وہ سمجھو کہ اس گاڑی کے استعمال کا کرایہ ہے اور کرایہ ہم شریعت میں جتنا مرضی لے لیں کوئی منع نہیں ہے اس طرح تم دس سال تک قسط دیتے رہو اس کے بعد گاڑی تو ہماری ہونی چاہئے تھی لیکن ہم تم کو گاڑی فری تحفہ میں دے دیں گے یعنی ہر جگہ حیلہ کیا جاتا ہے۔
میں نے انکو کہا کہ اس طرح تو پھر ہم عام قرض کو بھی جائز کر سکتے ہیں کہ بینک آپ کو ایک کروڑ قرض دے اور کہے کہ اس کو تم ایک سال بعد واپس کرنا اور صرف ایک کروڑ ہی واپس کرنا میں سود نہیں لیتا میں اسلامی بینک ہوں لیکن میری یہ ایک بال پوائنٹ کی پینسل ہے یہ بے شک دس روپے کی ہے لیکن تم اسکو دس لاکھ میں خرید لو کیونکہ منافع زیادہ لینے پہ کوئی منع نہیں ہے۔
پس قابل احترام بہن جی آپ پہلے وہاں سے پیسے نکلوا لیں یہی بہتر ہے۔
باقی آپ نے دوسرا جو فتوی دیا ہے کہ جو تجارت میں لگا ہوتا ہے اس پہ زکوۃ نہیں ہوتی ہے تو یہ بھی آپ کی لا علمی ہے کیونکہ زکوۃ جن چیزوں پہ ہوتی ہے اس میں ایک سامان تجارت بھی تو ہے ہاں سال کی شرط اس میں بھی اسی طرح ہے جس طرح نقدی سونے چاندی میں ہوتی ہے ۔
پس خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ اسلامی بینکنگ کے بارے اچھی طرح سٹڈی کریں یہاں پہلے سے اس پہ فتاوی موجود ہیں انکو سمجھیں اور جو رقم آپ کی میزان میں سود پہ ہے اسکو نکلوا لیں دوسرا یہ زکوۃ صرف اس سامان پہ ہو گی جو بیچنے کے لئے ہے جو فرنیچر یا مشینری فیکٹری وغیرہ میں ہے اس پہ زکوۃ نہیں ہوتی تیسری یہ کہ جو سامان تجارت اندازا سال بھر کم از کم پڑا رہتا ہے اسکی مالیت کے مطابق اڑھائی فیصد زکوۃ ادا کرنی ہو گی۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ