سوال       6824

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک مریضہ ہیں ان کو مرگی کی بیماری ہے ان کا کورس چل رہا ہے میڈیسن کا تو ان کو ڈاکٹر نے روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ان کی میڈیسن کا ٹائم صبح پونے سات بجے اور شام کو پونے سات بجے ہے اور وہ رمضان کے روزے نہیں چھوڑنا چاہتی وہ کہہ رہی ہیں کہ جو ثواب رمضان میں ملے گا مجھے وہ ثواب بعد میں روزے رکھنے کا نہیں ملے گا تو ان کے بارے میں رہنمائی فرما دیں ان کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں، عمومی طور پر ڈاکٹر حضرات احتیاطاً کچھ زیادہ ڈرا دیتے ہیں، اس لیے گھر والے مریضہ کی کیفیت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں کہ وہ روزہ رکھ سکتی ہیں یا نہیں۔ اگر دوائی کا وقت صبح پونے سات اور شام پونے سات ہے تو تھوڑا سا نظم و ضبط کر کے اسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر افطار کے فوراً بعد دوا لے لی جائے کھجور کھا کر اوپر سے دوا لے لیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ صبح کی دوا سحری کے وقت لی جا سکتی ہے، اگر وقفہ قابلِ برداشت ہو۔
اگر طبیعت آمادہ ہو اور گھر والے بھی سمجھتے ہوں کہ ممکن ہے، تو کوشش کرنا بہتر ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:﴿وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ (روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے)۔
البتہ اگر روزہ واقعی شدید مشقت یا نقصان کا باعث بنے تو پھر چھوڑ دینا ہی درست ہے، اور بعد میں صحت یاب ہونے پر قضا دے دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے خود رخصت دی ہے:

﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾

(جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے)۔
جب شریعت خود اجازت دے رہی ہے تو یہ کہنا کہ “بعد میں رکھنے سے رمضان والا اجر نہیں ملے گا” درست نہیں۔ اجر کا دار و مدار نیت، ایمان اور احتساب پر ہے۔ اگر کوئی شخص مجبوری کے تحت بعد میں قضا رکھتا ہے تو ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ وہ بندوں کے دلوں کے حال اور ان کی کمزوریوں کو خوب جانتا ہے۔
لہذا معاملہ مریضہ کی صحت اور برداشت پر موقوف ہے۔ جہاں ممکن ہو روزہ رکھیں، اور اگر واقعی دشواری ہو تو رخصت پر عمل کریں اور بعد میں قضا ادا کریں۔ اللہ سے حسنِ ظن اور امید رکھنی چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ