سوال (5429)
مرزا محمد علی جہلمی کو سننا کیسا ہے؟
جواب
اہل بدعت کے ساتھ بیٹھنا صحیح نہیں ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
“وَاِذَا رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ يَخُوۡضُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖ ؕ وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ” [الأنعام: 68]
اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہو جائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔
جو حدیث اور محدثین پر بہتان باندھے، وہ ظالم قسم کا انسان ہے، صحابہ پر تبرا کرتا ہے، طعن کرتا ہے، جو اس کے پاس بیٹھے گا، اپنے ایمان کو داؤ میں لگائے گا، ایسے لوگوں کی مجلس میں نہیں جانا چاہیے، اہل علم مناقشہ کی صورت میں جا سکتے ہیں، باقی ہر کسی کو اجازت نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
دیکھیں اس کے دو جواب ہیں۔
پہلا جواب ان لوگوں کے لئے ہے جو مرزا محمد علی کا گمراہ اور بدعتی ہونا جانتا ہے انکو قطعا اسکو نہیں سننا چاہئے جیسا کہ استاد محترم نے اوپر دلائل دے دئیے ہیں۔
میرا دوسرا جواب نئی یوتھ کے لئے ہے جو اس کی چرب زبانی کی وجہ سے اسکی بات کو درست سمجھنے لگتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ جو بظاہرصرف قرآن و حدیث کا نام لے رہا ہے اصل میں وہ خالی قرآن و حدیث نہیں بیان کر رہا ہے بلکہ اسکا اپنا مفہوم بھی ساتھ بیان کر رہا ہوتا ہے۔
اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے صحابہ کے دور میں کچھ لوگ خارجیوں کی ان الحکم الا للہ والی بات سن لیتے اور تفہیم بھی خارجیوں کی لے لیتے اور کسی صحابی وغیرہ سے اسکی تصدیق نہ کرواتے اور کہتے کہ وہ ہم سے قرآن ہی تو بیان کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ خارجی خالی قرآن ان الحکم الاللہ بیان نہیں کرتے تھے بلکہ اس آیت کا مفہوم اپنی طرف سے بیان کرتے تھے۔ آج بھی ہر فرقہ والا قرآن و حدیث سے ہی اپنے کفریہ و بدعی عقائد نکال رہا ہوتا ہے۔
پس میری ان یوتھ سے گزارش ہے کہ آپ ایک دفعہ مرزا صاحب کی صحابہ پہ طعن و تشنیع والے کلپس کو کچھ اہم اصولوں کی روشنی میں دیکھ لیں اور پھر خود ہی فیصلہ کر لیں کہ مرزا صاحب صرف قرآن و حدیث بیان کرتے ہیں یا پھر وہ قرآن و حدیث کا اپنے نظریات کے تحت مخصوص مفہوم بیان کر رہا ہوتا ہے۔
پہلا اصول: اذا وجد الاحتمال بطل الاستدلال،
یعنی ایسے احادیث بیان کرتا ہے جس میں ایک سے زیادہ معنی کا احتمال ہوتا ہے اور بغیر دلیل کے وہ صحابہ پہ طعن والا معنی فکس کر لیتا ہے جو ایک سے زیادہ احتمال ہونے کی وجہ سے باطل استدلال کہلاتا ہے
دوسرا اصول: اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم،
وہ دوسروں کو کہتا ہے کہ بابوں کی باتیں نہ کرو میں بابی نہیں ہوں میں علمی کتابی ہوں مگر پھر عمار بن یاسرؓ والی روایت میں وہ خود علامہ عینی یا ملا علی قاری کی تشریحات کا سہارا لے رہا ہوتا ہے
تیسرا اصول: کہ کسی حدیث کو شریعت کے پورے مجموعے کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے ایسے دیکھتا ہے جیسے کوئی لا تقربوا الصلوۃ سے دھوکا دے کہ جی دیکھو نماز کے وقت شراب کی ممانعت ہے آگے پیچھے پی سکتے ہیں۔
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
سوال: مرزا انجنیئر کو سننا کیسا ہے؟
جواب: انجینئر مرزا خود کذاب و دجال انسان ہے۔ اس حوالے سے ایک حدیث ضرور سامنے رکھیں:
“إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ” [بخاری: 5767]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں یا یہ فرمایا کہ بعض تقریر جادو ہوتی ہیں۔
جادو کفر ہے، لہذا اس حدیث میں بیان کی تعریف نہیں بلکہ اس کی ہلاکت و نقصان کی طرف اشارہ ہے۔ یہ چرب زبان شخص اپنی بناوٹی باتوں کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہے۔ جس کے پاس حقیقی علم وحی تو دور عقیدہ توحید بھی نہیں ہے۔ اس کی نماز، اس کا وضو، اس کے عقائد و نظریات مسلمانوں،اہل توحید کے برعکس ہیں۔ اس کے کذب و دجل کے واضح ہو جانے کی باوجود اسے سننا، یہ ہلاکت ہے۔ یہ مت دیکھیں فلاں کیا بات کررہا ہے، بلکہ پہلے یہ دیکھیں کہ کون بات کررہا ہے۔ ورنہ اہل بدعت اہل شرک، حتی کہ ختم نبوت کے منکر بھی اپنے کفر پر بظاہر قرآن سے دلائل دے رہے ہوتے ہیں۔ العیاذباللہ من ذالک۔ جوکہ درحقیقت ان کی باطل تاویلات ہوتی ہیں۔ عامی شخص تو ظاہر کو دیکھ کر ایسے شعبدہ بازوں کو قرآن بیان کرنے والا سمجھ لے گا، جوکہ اصل میں قرآن میں تحریف کرنا والا ہوتا ہے۔ عامی شخص کے لیے تمیز و فرق کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے ایسے لوگوں کو سننے سے اپنے آپ کو دور رکھیں، دین،عقائد کوئی کھلواڑ نہیں کہ جس پر سمجھوتا ہوسکے۔
جہاں تک معاملہ ہے عیسائیت کا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی نہیں مانتے،قرآن کو منزل من اللہ نہیں مانتے العیاذباللہ۔
یہ ان کا کفر ہے ان کے باطل نظریات ہیں۔ لیکن انجینئر مرزا نے جو الفاظ استعمال کیے وہ صریح گستاخی و بدزبانی ہے۔ عیسائی ایسے الفاظ صراحتا استعمال کرکے گستاخی نہیں کرتے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسائیوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نا لانا صریح کفر ہے۔ جس پر ہم ان کو اپنا خیرخواہ کبھی بھی نہیں سمجھتے۔
لیکن اس بنیاد پر ان پر گستاخی کا جھوٹا الزام لگانا یہ اسلام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ [المائدة : 8]
اے ایمان والو ! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہوجاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ کسی قوم کی عداوت تہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
انجینئر مرزا کی باتیں ہمیشہ کی طرح جھوٹ و بددیانتی پر مبنی ہیں۔
اس کا یہ جھوٹ اسلام و مسلمانوں کا نمائندہ موقف نہیں۔ نہ ہی انجینئر مرزا کو ہم مسلمانوں کا ترجمان مانتے ہیں۔ ہم اس سے ہمیشہ برات کا اظہار کرتے آئے ہیں اور آج بھی اسے اسلام و صحابہ دشمن عناصر میں شمار کرتے ہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




