سوال 6972
ایک سیکورٹی گارڈ جو کہ کہیں بھی ہو، جیسے بنگلہ میں یا کسی اور جگہ پر ڈیوٹی کر رہا ہو اور اس کے بنیادی اخراجات وغیرہ ہی پورے نہیں ہوتے، جیسے راشن وغیرہ تو کیا وہ زکوۃ کے مصرف میں سے جو مسکین والا آپشن ہے وہ گارڈ اس میں آتا ہے یا نہیں یا اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
و عليكم السلام و رحمة الله و بركاته
مسکین اس کو کہتے ہیں کو کماتا تو ہو، لیکن اس کی آمدنی اس کی جائز ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو۔
القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف
آیت نمبر 79
اَمَّا السَّفِيۡنَةُ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِى الۡبَحۡرِ فَاَرَدْتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُمۡ مَّلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ۞
ترجمہ:
کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کا ارادہ کرلیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک (صحیح سالم) کشتی کو جبراً ضبط کرلیتا تھا۔
اس آیت میں کام کرنے کے باوجود ان کو مسکین کہا گیا۔
لہذا جو کمائے لیکن جائز ضروریات پوری نہ ہوں وہ مسکین ہے۔ یقینا یہ سیکورٹی گارڈ بھی اسی زمرہ میں ہے۔
تنبیہ:
فرض زكوة ،فطرانہ عشر فقط مسلمان موحد نمازی کو ہی دے سکتے۔
بے نماز، مشرک، کو زکوة دینا ناجائز ہے۔
باقی نفلی صدقات خیرات میں رخصت ہے البتہ برے، پیشہ ور لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
جی، اگر اس کی ضروریات زیادہ ہیں اور اس کی آمدنی کم ہے تو اسے زکوٰۃ لگ سکتی ہے۔
لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کل کے دور میں سیکیورٹی کی ڈیوٹی کی آمدنی عموماً ضرورت پوری کرنے کے لیے ناکافی ہوتی ہے، اس پہلو کو بھی سامنے رکھا جا سکتا ہے۔
البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کی آمدنی کے باوجود کہیں فضول خرچی تو نہیں ہو رہی؟ اگر اس کے اخراجات فضول ہیں اور اس نے اپنے اوپر غیر ضروری بوجھ اور لوازمات کا اہتمام کر رکھا ہے، تو پھر ایسے شخص کو مسکین کے زمرے میں لا کر زکوٰۃ دینا کم از کم مناسب نہیں لگتا۔
واللہ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ



