سوال 6620
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ گزارے گئے لمحات یا آپس کی نجی باتیں دوسروں کے ساتھ شیئر کرتا ہے، کافی سمجھانے بجھانے کے باوجود راہ راست پہ نہیں آ رہا تو کیا اس صورت میں اس کی اہلیہ اس سے قطع تعلق کر سکتی ہے، کیا اس قطع تعلقی پہ وہ عورت گناہ گار ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ کبیرہ گناہ ہے اور ایسے مرد یا عورت پر لعنت کی گئی ہے۔
جہاں تک قطع تعلقی کی بات ہے تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ عورت کے لیے ایسا کرنا جائز ہے اور وہ اس پر گناہ گار نہیں ہو گی. واللہ اعلم
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
قطع تعلقی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کیا جائے یا ظلم کو قبول کر لیا جائے۔ بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شرم و حیا اور غیرت سے عاری ہو، اور عورت اس کے ساتھ زندگی گزارنے پر آمادہ نہ ہو تو وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے علیحدگی کا راستہ اختیار کرے۔
ایسی صورت میں عورت کو چاہیے کہ: اپنے گھر کے بڑوں کو معاملے میں شامل کرے، پورے معاملے کو حکمت، سنجیدگی اور وقار کے ساتھ سامنے رکھے، مناسب طریقے سے طلاق یا شرعی آزادی حاصل کرے۔
یہ سب اس نیت سے ہو کہ نہ صرف خود ظلم سے نجات حاصل ہو بلکہ ایسا شخص آگے چل کر کسی اور کی بیٹی کی زندگی بھی برباد نہ کر سکے۔ یعنی مقصود جذبات میں آ کر قدم اٹھانا نہیں، بلکہ دانشمندی، شریعت اور خیر خواہی کے ساتھ مسئلے کا مستقل اور درست حل نکالنا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: طلاق کا مطالبہ نہیں ہے، خاتون نے چار پانچ ماہ سے بات چیت بند کی ہوئی ہے اور ازدواجی تعلق بھی نہیں ہے۔ اسی گھر میں ہے اور وہ شخص بچوں کا نان و نفقہ بھی خود ہی اٹھا رہا ہے۔
جواب: جی ہاں، بات سمجھ میں آ گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا شخص بظاہر تمام خوبیوں کا حامل ہوتا ہے۔ نان نفقہ ادا کرتا ہے، رویہ نرم ہے، زبان میٹھی ہے، بیوی سے محبت کا اظہار بھی کرتا ہے، اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب سے اچھے طریقے سے ملتا ہے، جھوٹ سے بچتا ہے، پانچ وقت کا نمازی ہے، حتیٰ کہ اللہ کی راہ میں صدقہ دیتا ہے اور عمرے بھی کرتا ہے۔ گویا ظاہری اعتبار سے ہر خوبی اس میں موجود نظر آتی ہے۔
لیکن اس کے باوجود اگر ایک بنیادی اخلاقی اور عملی خرابی موجود ہے تو وہ معمولی نہیں رہتی، بلکہ انتہائی سنگین بن جاتی ہے۔ یہ ایسی خامی ہے جو پورے کردار، خاندان اور معاشرے کو متاثر کر دیتی ہے۔
اسی لیے ایسے معاملے میں محض خاموشی سے الگ ہو جانا درست حل نہیں، کیونکہ خاموش علیحدگی سے میدان خالی ہو جاتا ہے اور ایسا شخص مزید کسی اور عورت کی عزت و زندگی سے کھیلنے کا موقع پا لیتا ہے۔
لہذا ضروری ہے کہ: ایسے شخص کو روکا جائے، معاملہ کو دبایا نہ جائے بلکہ درست اور شرعی طریقے سے سامنے لایا جائے، وہی راستہ اختیار کیا جائے جو پہلے بیان کیا جا چکا ہے، یعنی بڑوں کی شمولیت، حکمت کے ساتھ اقدام اور شریعت کے دائرے میں فیصلہ۔
اس کا مقصد انتقام نہیں، بلکہ فساد کو روکنا اور مزید خرابی کے دروازے بند کرنا ہے، تاکہ نہ صرف ایک مظلوم کو نجات ملے بلکہ آنے والی کئی زندگیاں بھی تباہی سے محفوظ رہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




