سوال (6531)
موہکوں پہ گھوڑے کا بال باندھنا کہ اس سے موہکے جھڑ جاتے ہیں جائز ہے؟
جواب
طبی اعتبار سے اگر یہ علاج فائدہ مند اور مجرب ہو تو جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن اگر یہ تعویذ، دھاگے کے قبیل سے ہے تو بالکل درست نہیں ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
غیر متفق تماما۔۔۔
جسم وجلد کے مسام اس بال سے کچھ جذب نہیں کرتے بس عقیدہ پر ضرب پڑتی ھے اور نولہ ما تولی ۔۔ ہو جاتا ہے جیسے اور تعلیقات جائز نہیں ویسے ہی یہ بھی جائز نہیں الا یہ کہ بندہ تعلیقات تعویذات کا قائل ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
شیخ محترم!
1۔ طبی اعتبار سے کوئی فائدہ نہیں
2۔ عقیدے پر ضرب پڑتی ہے.
جواز کی بات ان دو چیزوں کی وضاحت کے ساتھ ہے، یعنی اگر طبی اعتبار سے فائدہ ثابت ہو اور اس کے ساتھ کوئی روحانی تصور بھی جڑا ہوا نہ ہو تو جائز ہے، اگر دونوں میں سے کوئی ایک قباحت بھی ہو تو درست نہیں!
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: شیخ اسی طرح پھر تانبے یا پیتل کے کڑوں کا جواز بھی ہونا چاہیے وہ بھی بلڈ پریشر کو متوازن کرنے میں طبی طور پر مفید ثابت ہوا ہے لیکن بعض علماء اس کو بھی منع کرتے ہیں جبکہ اس میں کوئی عقیدہ شامل نہیں۔
جواب: لوگ چونکہ کڑا/ رنگ تبرک اور روحانیت کے نقطہ نظر سے پہنتے ہیں، اس وجہ سے علمائے کرام اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں، لیکن اگر واقعتا صورت حال وہی ہو جیسے آپ نے بیان فرمائی ہے تو اس کی حرمت و ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس طرح تو بہت ساری طبی چیزیں منع کرنی ہوں گی، جو کہ درست نہیں!
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
عرب و عجم کے اکثر مشائخ جواز نہیں دیتے کیونکہ سد باب کرنا ضروری ہے ورنہ شرک اور بدعی تعویذ گنجائش پا جائیں گے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: یہ جو بال باندھا جاتا ہے اس میں ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ بہت تیز ہوتا ہے جس سے کوئی چیز کاٹی جاسکتی ہے۔ موہکے پر باندھتے ہیں تو وہ کٹ جاتا ہے۔
جواب: جی بالکل میرے ذہن میں بھی یہی بات ہے اور یہ بالکل معقول المعنی علاج ہے، جس میں روحانیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




