موجودہ جنگی حالات پر بعض تنبیہات

تنبیہِ اوّل: موحد کی قوت اور تقدیر پر یقین:
مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے آپ کو ’’موحد‘‘ سمجھے؛ یعنی اس کا پختہ ایمان ہو کہ تمام امور اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں اور آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی سب کچھ مقدر کیا جا چکا ہے۔ خوف، گھبراہٹ اور بے قراری سے بچنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی جو بھی فیصلہ فرماتا ہے وہ سراسر خیر ہی ہوتا ہے، خواہ ہم اس کی حکمت کو جان سکیں یا نہ جان سکیں۔ موحدین اس روئے زمین پر سب سے زیادہ مضبوط اور باوقار لوگ ہوتے ہیں، اس لیے کہ وہ ربِّ العالمین کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے رکھتے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں۔

تنبیہِ دوم: فتنوں (ہرْج) کے زمانے میں عبادت کی فضیلت:
جب لوگ افواہوں، باتوں کی کثرت، خبروں کی نشر واشاعت اور گھبراہٹ میں مشغول ہوں، ایسے وقت میں مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے اور نماز، تلاوتِ قرآن، دعا اور صدقہ میں اضافہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: ’’العبادة في الهرج كهجرة إلي‘‘ ’’فتنوں کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں عبادت کا اجر بہت عظیم ہے، اور یہی دل کے اطمینان اور باطنی سکون کا ذریعہ بنتی ہے۔

تنبیہِ سوم: دعا مؤمن کا ہتھیار اور وہ لشکر ہے جو مغلوب نہیں ہوتا:
ان حالات میں دعا کی کثرت سے تاکید ہے، کیونکہ یہی اہلِ ایمان کا اصل ہتھیار اور قوت ہے۔ ابن تیمیہ نے فرمایا: ’’القلوب الصادقة والأدعية الصالحة هي العسكر الذي لا يُغلب والجند الذي لا يُخذل.‘‘ ’’سچے دل اور نیک دعائیں وہ لشکر ہیں جو مغلوب نہیں ہوتا اور وہ فوج ہے جو ناکام نہیں ہوتی۔‘‘ اگرچہ یہود اور ان کے پسِ پردہ قوتوں کا مکر بڑا معلوم ہوتا ہے، مگر اللہ تعالی اسے ناکام بنا دیتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:

﴿كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ﴾.

’’جب بھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں، اللہ اسے بجھا دیتا ہے۔‘‘

تنبیہِ چہارم: بڑے معاملات کو اہلِ اختیار کے سپرد کرنا اور افواہوں سے احتیاط کرنا:
سیاسی تجزیوں، قیاس آرائیوں اور افواہوں میں الجھنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ’’ایسا ہونا چاہیے تھا‘‘ یا ’’ویسا کیوں نہ ہوا‘‘ جیسے جملے کہنا درست نہیں۔ یہ بڑے اور حساس معاملات اہلِ اختیار اور ذمہ داران کے سپرد کیے جائیں، کیونکہ فیصلہ سازی اور مستند معلومات تک رسائی انہی کے پاس ہوتی ہے۔ مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ غیر متعلق امور میں پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح اور ذمہ داریوں پر توجہ دے۔

تنبیہِ پنجم: غم اور خوف شیطان کی طرف سے ہیں:
کفار کا مکر کوئی نئی بات نہیں، اور اللہ تعالی ہی سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ ابن تیمیہ وابن قیم رحمہما اللہ نے بیان کیا ہے کہ بے جا غم اور خوف شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، اور ان کا مقصد اہلِ ایمان کو کمزور کرنا اور انہیں عبادت سے دور کرنا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ دل کو اللہ تعالی سے وابستہ رکھا جائے، قرآنِ مجید کی تلاوت سے سینوں کو منور کیا جائے، اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے ہدایت، توفیق اور فتنوں کے خاتمے کی دعا کی جائے تاکہ اللہ تعالی کفار اور یہود کے فساد کو ختم فرمائے۔

شیخ عبد العزيز الریس حفظہ اللہ (موقف من ضرب إسرائيل والأمريكا لإيران)

تحریر وتلخیص:

حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ

یہ بھی پڑھیں:اے اللہ! ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے محفوظ فرما