سوال          6932

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!
امید کرتا ہوں کہ تمام مشائخ خیریت سے ہوں گے اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔
اعتکاف کے حوالے سے ایک مسئلہ تھا کہ معتکف احباب اپنے خیمے میں کب داخل ہوں گے، 20 کی فجر یا 21 کی فجر پڑھ کر۔ دلائل سے رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا۔

جواب

وعليكم السلام و رحمة الله وبركاته!
سنت یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کریں۔
[بخاری: 2026]
اعتکاف کا طریقہ یہ ہے کہ بیسویں روزے کی افطاری مسجد میں کریں، ساری رات عبادت میں گزاریں خیمہ سے باہر ہی اس کے بعد فجر کی نماز ادا کرکے خیمہ میں داخل ہوں۔
لیلة القدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے،اور لیلة القدر کی تلاش بھی اعتکاف کے مقاصد میں سے ہے، اس لیے بیسوں روزے کی مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہوجانا چاہیے تاکہ ساری رات عبادت میں گزاریں۔
[بخاری: 2018]
فجر کے بعد خیمہ میں داخل ہوجائیں۔
[بخاری: 2041]
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ارادہ اعتکاف والے 20واں روزہ مسجد میں افطار کریں۔
شب بھر عبادت کریں اور پھر 21 ویں روزہ کی نماز فجر ادا کر کے خیمہ میں جائیں بلکہ اشراق پڑھ کر جائیں۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

سائل: کیا کوئی 20 کی فجر کی کوئی روایت بھی ہے؟
جواب: روایت کوئی نہیں ہے، لوگوں نے خاص طور پر دورِ حاضر میں یہ بات خود ہی سمجھنا شروع کر دی ہے۔ ان کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ رات اسی کو ملتی ہے جو خیمے میں ہوتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ “وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ” اعتکاف مسجد کے ساتھ ہے اور نیت کے ساتھ ہے۔
حرمین میں تو خیمے لگتے ہی نہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں اعتکاف کرنے والوں کو رات نہیں ملتی؟ لہٰذا ہمارے ہاں خیمے کے بارے میں بلا وجہ ایک مقصد بنا لیا گیا ہے۔
اگر کسی نے پورا مہینہ اعتکاف کرنا ہے تو یہ بھی جائز ہے، اور اگر بیس دن کا کرنا چاہے تو وہ بھی جائز ہے۔ لیکن عمومی طور پر جو آخری عشرے کا معاملہ ہے وہ وہی ہے جو شیخ نے اوپر بیان کیا ہے: یعنی آپ بیس رمضان کو مسجد میں آ جائیں، روزہ افطار کریں، مسجد میں اعتکاف اور عبادت میں مشغول رہیں، پھر اکیس کی سحری کھا کر فجر کی نماز پڑھیں اور فجر کے بعد خیمے میں داخل ہو جائیں۔
یہ وہ فہم ہے جو جمہور اہلِ علم نے کتاب و سنت سے سمجھا ہے۔ البتہ یہ ممنوع نہیں کہ آپ اس سے پہلے خیمے میں نہ جا سکیں۔ آپ سامان سیٹ کرنے کے لیے جا سکتے ہیں، رکھ سکتے ہیں، حتیٰ کہ بیٹھ بھی سکتے ہیں۔ لیکن جو باقاعدہ دخول تخلیہ کے ساتھ ہوتا ہے وہ اکیس کی فجر پڑھنے کے بعد ہے۔ یہی جمہور اہلِ علم کا فہم ہے۔
ہمارے ہاں بلاوجہ اس مسئلے میں کچم تانی شروع کر دی گئی ہے، حالانکہ عشرے کا اطلاق اسی طریقے پر ہوتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: دیکھیں محترم میرا خیال ہے کہ حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ کا جو فتویٰ ہے وہ بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے، میں نے شاید وہ پڑھا تھا، میں دیکھتا ہوں تو آپ کو لنک بھیجتا ہوں۔ اس میں بھی انہوں نے بیس کی صبح کو لکھا ہے اور غالباً وہ دامانوی صاحب کا کوئی مضمون تھا اس کا انہوں نے تعاقب بھی کیا ہوا ہے۔
جواب: جی سلمک اللہ! جی ہاں مجھے اندازہ ہے ان چیزوں کا بارک اللہ فیکم۔ یہ شیخ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کا غالباً موقف تھا تو وہاں سے شاید یہ پھر بات چل پڑی اور کچھ اس طرف ہو گئے کچھ اس طرف ہو گئے، لیکن راجح قول جمہور کا ہی ہے کہ وہ اکیسویں شب ہے جو خیمے کا تقاضا کرتی ہے یا خیمے میں خیمے میں داخل ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ باقی کوئی عمل کرنا چاہے کر لے مگر وہ ہمارے ہاں ایسا انتشار ہوا کہ نورپوری صاحب رحمہ اللہ نے باقاعدہ پھر اس کا تفصیلی ایک جواب دیا احکام و مسائل کے اندر۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ