سوال (6518)
ایام مخصوصہ کے دوران ایک معلمہ قرآن آگے رکھ کر ترجمہ پڑھا سکتی ہے؟
جواب
اس صورت میں تین چیزوں کی اجازت دی جاتی ہے، ایک گلوز پہن لیں، دوسری بات ٹچ موبائل سے پڑھا لے، تیسری بات صفحات پلٹنے میں مدد لے، تو پھر کوئی سختی نہیں ہے، بس ادب کی صورت میں بتایا جاتا ہے کہ براہ راست ہاتھ نہ لگائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
اس حوالے سے اہل علم کے آراء مختلف ہے، لیکن بظاہر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حالت حیض میں قرآن پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، چھونا درست نہیں ہے، اگرچہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ کپڑے اور دستانے کے ساتھ چھوا جا سکتا ہے، لیکن احوط یہ ہے کہ قرآن کو حالت حیض میں نہ چھوئیں، اگر آپ کے سامنے قرآن کھولا ہوا ہے، کوئی ورقے پلٹ دے، آپ پڑھ سکتے ہیں، آپ کسی پینسل کی مدد سے پلٹ دیں، یا کسی ڈیوائس سے پڑھ لیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، شریعت نے قرآن پڑھنے سے نہیں روکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے، قرآن سے بڑھ کر کوئی ذکر نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




