محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کا مختصر تعارف
کچھ شخصیات محض علم کی امین نہیں ہوتیں بلکہ علم کو جینے برتنے اور معاشرے میں منتقل کرنے کا سلیقہ بھی رکھتی ہیں۔ محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ انہی نابغۂ روزگار اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جن کی شخصیت کتابوں کے اوراق سے نکل کر دلوں کی دنیا میں سانس لیتی ہے۔ وہ علم بھی رکھتے ہیں اور عمل بھی، اور یہی امتزاج ان کی شہرت کو محض ناموری نہیں بلکہ قبولیتِ عامہ عطا کرتا ہے۔
علمی شخصیت: اور بصیرت کا حسین امتزاج
محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی علمی شخصیت کا نمایاں وصف یہ ہے کہ ان کا علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ فہم، توازن اور بصیرت کا مجموعہ ہے۔
قرآن و حدیث، فقہ و عقیدہ، اور معاصر فکری مباحث ہر میدان میں ان کی گفتگو دلائل کی مضبوطی اور اسلوب کی شائستگی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
وہ علم کو نہ تو خشک بنا دیتے ہیں بلکہ ان کی علمی گفتگو میں سلف کی متانت،محققین کی گہرائی اور داعی کی حکمت یکجا ہو جاتی ہے۔
اسی وجہ سے ان کا درس سننے والا محض سامع نہیں رہتا، بلکہ سوچنے والا طالبِ حق بن جاتا ہے۔
علم کا جیتا جاگتا نمونہ
علم اگر عمل سے خالی ہو تو وہ بوجھ بن جاتا ہے
محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی شخصیت میں یہ دونوں پہلو ایک دوسرے کے لیے دلیل بن جاتے ہیں۔
ان کی سادگی، انکساری، وقت کی پابندی اخلاقی استقامت اور دعوتی مزاج اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، پہلے خود اس پر چلتے ہیں۔ان کا طرزِ زندگی اس خاموش درس کی مانند ہے جو بغیر آواز کے بھی دلوں کو متاثر کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت طلبہ کے لیے مثالی استاد عوام کے لیے قابلِ اعتماد رہنما اور اہلِ علم کے لیے باعثِ احترام رفیق کی حیثیت رکھتی ہے۔
نام نہیں، پیغام کی پہچان
محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی شہرت کسی مصنوعی تشہیر کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ یہ علمی دیانت، فکری توازن اور دعوتی اخلاص کا قدرتی نتیجہ ہے۔ان کی پہچان شور سے نہیں سنجیدگی سے ہےنعروں سے نہیں دلائل اور اخلاق سے ہے۔
ان کی بات سنی جاتی ہے کیونکہ وہ جوڑتے ہیں، توڑتے نہیں راہ دکھاتے ہیں الجھاتے نہیں۔
یہی وصف انہیں موجودہ دور کے ان اہلِ علم میں شامل کرتا ہے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔
درسِ بخاری اور علمی اعتماد
آپ کی علمی پختگی اور حدیث سے گہری وابستگی کا ایک نمایاں مظہر یہ ہے کہ مختلف دینی ادارے اور علمی حلقے آپ کو تقریبِ بخاری شریف کے موقع پر درسِ بخاری کے لیے مدعو کرتے ہیں۔
یہ دعوت محض ایک رسمی اعزاز نہیں بلکہ اس اعتماد کی علامت ہے جو اہلِ علم آپ کی فہمِ حدیث، اعتدالِ منہج اور تدریسی صلاحیت پر رکھتے ہیں۔
درسِ بخاری کے یہ مواقع دراصل اس تسلسل کا اظہار ہیں کہ آپ کی علمی محنت، اساتذہ سے حاصل کردہ امانت اور برسوں کی تدریس آج امت کے مختلف طبقات تک منتقل ہو رہی ہے۔
عصری ذرائع اور علمی اثر پذیری
عصرِ حاضر میں علم کی ترسیل کے ذرائع بدل چکے ہیں، مگر علم کی روح آج بھی وہی ہے۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر آپ کے مختصر علمی کلپس اور بعض کتبِ حدیث و عقیدہ کے اسباق دستیاب ہیں، جن میں علمی اختصار کے ساتھ فہم و حکمت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ کلپس بالخصوص ان افراد کے لیے باعثِ استفادہ ہیں جو باقاعدہ درسگاہوں تک رسائی نہیں رکھتے، مگر علمِ دین سے قلبی تعلق رکھتے ہیں۔ یوں علم، دیواروں اور فاصلوں سے آزاد ہو کر عام لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔
نام و نسب
محمد عبداللہ ناصر رحمانی بن الشیخ عبدالرشید رحمانی ہے۔
پیدائش
1958 کو کراچی میں پیدا ہوئے
خاندانی پس منظر
شیخ محترم کے والدِ محترم کی پوری زندگی محنت، دیانت اور سادگی کی عملی تفسیر تھی۔ ان کا ذریعۂ معاش تجارت رہا، اور اسی کاروبار سے وہ عمر بھر وابستہ رہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل متحدہ ہندوستان کے صوبہ بہار کے تاریخی شہر پٹنہ میں ایک معروف تجارتی فرم قائم تھی جو اپنے معیار اور اعتماد کے باعث پہچانی جاتی تھی۔
قیامِ پاکستان کے بعد جب ہجرت کا کٹھن مرحلہ درپیش آیا تو شیخ محترم کے والد محترم نے حالات کی سختیوں سے مرعوب ہوئے بغیر کراچی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں بھی اسی کاروباری روایت کو زندہ رکھا۔ وہی فرم جو اسٹیل فرنیچر کے میدان میں کام کر رہی تھی ازسرِنو قائم کی گئی۔ اس کاروبار کی عملی نگرانی اس وقت شیخ محترم کے چھوٹے بھائی انجام دے رہے تھے یوں یہ محنت و دیانت کی امانت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔
شیخ محترم کے والد محترم کی شخصیت کے پہلو
شیخ محترم کے والدِ محترم بظاہر عصری تعلیم سے نا آشنا تھے مگر ان کا دل علمِ دین کی روشنی سے منور تھا۔ وہ نہایت شریف النفس، متین الطبع، مستی باعمل اور سچے مسلمان تھے۔ اگرچہ درسگاہوں میں باقاعدہ حاضری نصیب نہ ہوئی، لیکن قرآن و حدیث کی مجالس اہلِ علم کی صحبت اور صالحین کی رفاقت نے ان کی شخصیت کو نکھار دیا تھا۔
تقسیم سے قبل شہر پٹنہ میں امیر المجاہدین مولانا عبدالخبیر رحمہ اللہ کی صحبت سے انہیں بھرپور عملی اور روحانی فیض حاصل ہوا۔ یہی وہ صحبت تھی جس نے ان کے دل میں دین کی محبت کو جلا بخشی اور عمل کی راہوں کو روشن کیا۔
پاکستان کے بعد: اہلِ علم سے وابستگی کا سنہرا دور
قیامِ پاکستان کے بعد شیخ محترم کے والد محترم کو جن اکابر علماء و مشائخ کی قربت اور محبت نصیب ہوئی، وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں:
1️⃣ حضرت العلام حافظ عبداللہ محدث روپڑی
2️⃣ حافظ محمد اسماعیل روپڑی
3️⃣ سلطان المناظرین حافظ عبدالقادر روپڑی
4️⃣ شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری
5️⃣ مولانا سید عبدالغنی شاہ رحمہم اللہ کامونکی والے
ان جلیل القدر ہستیوں سے ملاقاتوں، مجالس اور تعلقات نے شیخ محترم کے والد محترم کے دل میں دین کے ساتھ وابستگی کو اور بھی پختہ کر دیا۔ یہی تعلق محض عقیدت تک محدود نہ رہا بلکہ ایک عملی وابستگی میں ڈھل گیا، جو ان کی زندگی کے ہر گوشے میں جھلکتی تھی۔
اولاد کے لیے انتخاب: دین کو وراثت بنانا
اسی دینی شوق، قلبی وابستگی اور اخلاص کے جذبے کے تحت شیخ محترم کے والد محترم نے اپنی اولاد میں سے ان کو دین کے حصول کے لیے منتخب فرمایا۔ یہ انتخاب محض ایک فیصلے کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک دعا، ایک تمنا اور ایک امانت تھی جو انہوں نے اللہ کے حضور پیش کی اور اولاد کے سپرد کی۔
وصال: حرم کی سرزمین پر ابدی آرام
۱۹۹۷ء میں شیخ محترم کے والد محترم عمرہ کی سعادت کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ وہیں بیت اللہ کے سائے میں، ان کی زندگی کا سفر اختتام کو پہنچا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ شرف عطا فرمایا کہ ان کا انتقال حرم کی فضاؤں میں ہوا اور تدفین جنت المعلیٰ میں عمل میں آئی جو یقیناً ان کے اخلاص اور نیک نیتی کا مظہر ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ان کی قبر کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنائے۔
ایک دعا، ایک نذر، اور زندگی کا نیا راستہ
اس شوقِ دین کے پیچھے اگر غور کیا جائے تو اس میں شیخ محترم کے والدِ گرامی کی توجہ، ان کا اخلاص اور ان کی سچی دعاؤں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ یہ محض ایک تاثر نہیں، بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے ان کی زندگی کی سمت متعین کردی۔
سنیں شیخ محترم کی زبانی
اس وقت میری عمر کوئی سات یا آٹھ برس ہوگی۔ ہم کراچی سے گوجرانوالہ چھٹیاں گزارنے اپنے دادا جان کے ہاں آئے ہوئے تھے۔ ایک دن موسلا دھار بارش ہوئی۔ دادا جان کے گھر کے قریب دو تین ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک جوہڑ(گندا تالاب )تھا۔بارش کے باعث وہ لبالب بھرا ہوا تھا۔ میں دیگر رشتہ دار بچوں کے ساتھ کھیل میں مشغول تھا کہ اچانک ایک شرارتی لڑکے نے مجھے اس گندے چھپڑ میں دھکا دے دیا۔
وہ لمحہ جیسے وقت سے باہر ہوگیا۔
تمام بچے گھبرا کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے، اور میں تنہا گہرے پانی میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ سانس اکھڑنے لگی، جسم ساتھ چھوڑنے لگا، اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا پھیلنے لگا۔ میں موت و حیات کی کشمکش میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غیب سے مدد بھیج دی۔
اتفاقاً وہاں سے ایک آدمی گزر رہا تھا۔ اس نے جب پانی میں میرا سر ڈوبتا اُبھرتا دیکھا تو فوراً تالاب میں چھلانگ لگا دی اور پل بھر میں مجھے باہر نکال لیا۔ میرا پیٹ پانی سے پھولا ہوا تھا، حالت نہایت نازک تھی اور میں نیم بے ہوشی کے عالم میں تھا۔ اس شخص نے مجھے پہچان لیا اور فوراً گھر لے آیا۔
والد کی دعا اور تقدیر کا موڑ
جب والدِ گرامی اور دیگر اہلِ خانہ نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو سب کے اوسان خطا ہوگئے۔ چھوٹے بڑے، سب اللہ تعالیٰ کے حضور میری زندگی کی بھیک مانگنے لگے۔
والدِ محترم کے دل میں پہلے ہی دین کی ایک خاموش تمنا موجود تھی، مگر اس لمحے وہ ایک پختہ عزم میں بدل گئی۔
انہوں نے روتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی:
یا اللہ کریم! اگر تو نے میرے شکیل احمد کو زندگی عطا فرما دی تو میں اسے تیرے دین کی اشاعت و ترویج کے لیے وقف کر دوں گا۔
وہ خود بیان کیا کرتے تھے کہ جیسے ہی دعا مکمل ہوئی، میری حالت میں بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اسی لمحے اس دعا کو قبولیت عطا فرما دی۔
نذر کی تکمیل: مدرسہ کی دہلیز پر
وقت گزرتا گیا۔ جب میں نے پرائمری کا امتحان پاس کر لیا تو والدِ گرامی نے اپنی نذر پوری کرتے ہوئے مجھے مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ، کراچی میں داخل کرا دیا۔
یوں میں کھیل کود اور عام تعلیمی راستے سے ہٹ کر علمِ دین کے سفر پر گامزن ہو گیاایک ایسے سفر پر جس کی بنیاد ایک باپ کی دعا، ایک لمحے کی بے بسی اور اللہ کی خاص رحمت تھی۔
داخلے کے بعد الشیخ مولانا کرم الدین رحمہ اللہ نے میرا نام محمد عبداللہ ناصر رکھ دیا، اور آج میں اسی نام سے معروف ہوں۔
وضاحت: واضح رہے کہ “رحمانی” میرا خاندانی لقب نہیں، بلکہ دارالحدیث رحمانیہ کراچی کی نسبت سے اختیار کیا گیا ہے۔
میرے والدین نے میرا نام شکیل احمد رکھا تھا، مگر تقدیر نے مجھے ایک نیا نام بھی دیا اور ایک نئی پہچان بھی دین کی نسبت والی پہچان۔
تعلیمی سفر: دارالحدیث سے ریاض یونیورسٹی تک
شیخ محترم کی دینی تعلیم کا آغاز اور ارتقا ایک ہی مرکزِ علم سے وابستہ رہا۔ انہوں نے اپنی تمام ابتدائی و اعلیٰ دینی تعلیم دارالحدیث رحمانیہ، کراچی سے حاصل کی اور وہیں سے فارغ التحصیل ہوا۔ یہ ادارہ محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ ان کی فکری، علمی اور عملی مزاج کی تشکیل کا سرچشمہ ثابت ہوا، جہاں علم کو محنت، ضبط اور اخلاص کے ساتھ حاصل کرنے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔
دارالحدیث رحمانیہ میں تعلیم کے بعد علم کے ذوق نے مزید وسعت اختیار کی، چنانچہ شیخ محترم نے جامعہ (ریاض یونیورسٹی)، سعودی عرب میں داخلہ لیا۔ وہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی صحبت اور بین الاقوامی علمی ماحول نے مزید کشادہ کیا، اور وہیں سے بھی فراغت حاصل کی۔
اساتذۂ کرام: جن کی صحبت نے فکر و نظر کو جلا بخشی
تعلیم میں استاد کا کردار روح کی مانند ہوتا ہے، اور ان کو یہ سعادت حاصل رہی کہ ایسے جلیل القدر اساتذہ کی رہنمائی نصیب ہوئی جن کے علم و عمل نے ان کے علمی سفر پر گہرے نقوش ثبت کیے۔
دارالحدیث رحمانیہ کراچی میں جن اساتذۂ کرام سے اکتسابِ فیض کا موقع ملا ان میں خصوصاً:
1️⃣ فضیلتہ الشیخ قاری عبدالجلیل صاحب
2️⃣ شیخ الحدیث مولانا حاکم علی دہلوی
3️⃣ شیخ الحدیث مولانا محمد اسحاق خائف
4️⃣ فضیلتہ الشیخ مولانا عبدالعزیز
5️⃣ فضیلتہ الشیخ مولانا کرم الدین
6️⃣ شیخ الحدیث مولانا بدیع الدین شاہ راشدی رحمہم اللہ
جیسے نامور اور صاحبِ نسبت اہلِ علم شامل ہیں۔ ان حضرات کی علمی گہرائی، حدیث سے وابستگی اور دینی غیرت نے شیخ محترم کے مزاج میں تحقیق، احتیاط اور استقامت کو راسخ کیا۔
ریاض یونیورسٹی میں بھی سعودی، شامی اور دیگر عرب و اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے جید اساتذہ کی صحبت میسر آئی، جن سے استفادے نے ان کے علمی ذوق کو بین الاقوامی سطح پر جاکر مضبوط کیا۔
عصری تعلیم
عصری تعلیم کے اعتبار سے ایف۔اے تک تعلیم حاصل کی، تاہم شیخ محترم کی اصل دلچسپی اور توجہ ابتدا ہی سے علمِ دین کے حصول اور اس کی خدمت پر مرکوز رہی۔
درس و تدریس کا سفر: روایت کی امانت، ذمہ داری کا شعور
سعودی عرب سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شیخ الحدیث عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے اپنی علمی قابلیت کو عملی میدان میں پیش کرنے کے لیے تدریسی سفر کا آغاز کیا۔
تعلیم کے بعد علم کو آگے منتقل کرنا محض ایک مرحلہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے، اور یہ امانت تھی جن مقامات پر اٹھانے کی توفیق ملی ممدوح کو وہ سب ان کے علمی سفر کے اہم سنگِ میل ہیں۔
سب سے پہلے دارالحدیث رحمانیہ، کراچی میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیاوہی ادارہ جہاں سے خود علم حاصل کیا تھا۔ یہ ایک فطری تسلسل تھا کہ شاگردی کے بعد خدمتِ علم کا موقع بھی اسی درسگاہ میں نصیب ہو۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیۃ
اس دوران فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ (بانی جامعہ ابی بکر الاسلامیۃ) کی طرف سے پرزور اصرار پر، وہ جامعہ ابی بکر الاسلامیۃ میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔
بعد میں جب انہیں جمعیت اہلِ حدیث سندھ کے ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا تو دعوتی، تبلیغی اور تنظیمی ذمہ داریوں کی کثرت کی وجہ سے اس تدریسی فریضے کو ترک کرنا پڑا۔ تاہم علم و تدریس کے شوق اور اداروں کے ذمہ داران کے اصرار کے باعث وہ اپنی مادر علمی جامعہ دارالحدیث رحمانیہ، سولجر بازار کراچی میں بطور شیخ الحدیث تقرر ہوئے۔
مدرسہ کا قیام المعہد السلفیۃ للتعليم والتربية کراچی
اسی علمی و دعوتی جذبے کے تحت ایک مستقل تعلیمی ادارے کی1999ء میں بنیاد رکھی جس کا نام “المعہد السلفیۃ للتعليم والتربية کراچی” جمعیت اہلِ حدیث سندھ کا مرکزی اور ممتاز ادارہ ہےیہ ادارہ نہ صرف تعلیم و تعلم بلکہ تزکیہ، تربیت اور عملی منہجِ سلف کی پہچان بھی بن گیا ہے۔ پاکستان کے سلفی اداروں میں المعہد السلفیۃ کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہے کہ یہاں علم، اخلاق اور عملی تربیت کا ایک مربوط اور منظم نظام قائم ہے، جو طلبہ کو نہ صرف علمی مہارت عطا کرتا ہے بلکہ انہیں دین کے حقیقی خدمتگار کے طور پر بھی تیار کرتا ہے۔
شیخ محترم اس ادارے کے بانی، رئیس اور شیخ الحدیث ہیں، اور ان کی بصیرت، محنت اور تدبیری حکمت کی وجہ سے المعہد السلفیۃ آج پاکستان کے علمی اور تربیتی اداروں میں ایک نمایاں اور معتبر نام بن چکا ہے۔ یقیناً یہ ادارہ شیخ محترم کا ایک عظیم الشان علمی اور دعوتی کارنامہ ہے، جس کی روشنی سے آنے والی نسلیں دین و دنیا میں متوازن اور مستحکم کردار کی حامل ہوں گی۔
قیام کے بعد شیخ صاحب تاحال اسی ادارے میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
تصنیفی خدمات: قلم کے ذریعے علم کی امانت
تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف وہ میدان ہے جہاں ایک عالم کی فکری سمت، علمی پختگی اور امت کے درد کا حقیقی اندازہ ہوتا ہے۔
محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے قلم کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے علم کی امانت سمجھ کر برتا ہے۔
ان کی تصنیفی خدمات میں تحقیق کی گہرائی، منہجِ سلف کی پاسداری اور عصرِ حاضر کے فکری تقاضوں کا شعور نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ خواہ وہ حدیث کی ترتیب و شرح ہو، عقائد کی توضیح ہو یا امت کو درپیش فکری شبہات کا ازالہ ان کی تحریر میں وضاحت، اعتدال اور علمی دیانت نمایاں رہتی ہے۔
ان کی کتب محض اہلِ علم ہی کے لیے نہیں بلکہ طلبہ، خطباء اور سنجیدہ دینی ذوق رکھنے والے عام قارئین کے لیے بھی رہنمائی کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ یوں ان کا قلم درسگاہوں کی حدود سے نکل کر وسیع تر دینی حلقوں تک علم کی روشنی پہنچا رہا ہے۔
یہ تصنیفی کاوشیں درحقیقت اس بات کی گواہ ہیں کہ شیخ محترم کے نزدیک علم محض محفوظ کرنے کی چیز نہیں، بلکہ آگے منتقل کرنے اور امت کی اصلاح میں صرف کرنے کی ذمہ داری ہے۔
شیخ محترم کی تالیفات
1۔ فتح الباری پر تقریباً ساٹھ صفحات پر مشتمل تحقیقی مضمون
2۔ المنہج الأسعد في ترتيب أحادیث مسند الإمام أحمد
مسند امام احمد کی احادیث کو منظم اور ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی ایک تحقیقی کوشش۔
3۔ توحید: حقیقت، ضرورت، اہمیت و فضیلت۔
عقیدہ توحید کی حقیقت، ضرورت، فضیلت اور عملی اہمیت کو واضح کرنے والا ایک مدلل کام۔
4۔ شرح حدیث جبریل
معروف حدیث جبریل کے مفاہیم و تعلیمات کی توضیح و تشریح۔
5۔ شرح حدیث ہرقل
حدیث ہرقل کے معانی، تناظر اور عملی درس کو پیش کرنے والی تصنیف۔
6۔ شرح حدیث ابوذر غفاری
ابوذر رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور ان سے متعلق حدیث کی روشنی میں تربیتی درس۔
7۔ روزہ: حقیقت و ثمرات
روزے کے فلسفہ، حقیقت اور اس کے روحانی و جسمانی فوائد کی جامع توضیح۔
8۔ شرح اربعین نووی
امام نووی کی چالیس احادیث کا مفصل شرح و تفسیر، جو تاحال زیرِ طبع ہے۔
9۔ خطبات رحمانی
شیخ صاحب کے خطبات کا مجموعہ، جو دعوت، اصلاح اور تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
ترجمہ و اشاعتِ علم
فرقۂ ناجیہ پر مشتمل کچھ کتب کا عربی سے اردو ترجمہ کیا۔
10۔ توحید إله العالمين
(ترجمہ تيسير العزيز الحميد شرح كتاب التوحيد)
عقیدہ توحید کے بنیادی مسائل اور اس کی حقیقت و فضیلت کی وضاحت۔
11۔ توحید أسماء و صفات
(ترجمہ القواعد المثلیٰ للشیخ محمد بن صالح العثیمین)
صفاتِ الٰہی کی تفہیم اور صحیح عقیدے کی رہنمائی۔
12۔ عقائد سلف صالحین
(ترجمہ لمعۃ الاعتقاد للشیخ محمد بن صالح العثیمین)
سلف صالحین کے عقائد کو جامع اور مدلل انداز میں بیان کرنے والی تصنیف۔
13۔ عقیدہ فرقہ ناجیہ
(ترجمہ شرح عقیدہ واسطیہ للشیخ فوزان)
امت میں صحیح عقیدہ کی پہچان اور فکری اعتدال کی رہنمائی۔
14۔ اخلاق و معاشرت
دوستی و دشمنی کا اسلامی معیار
(ترجمہ للشیخ فوزان)
انسانی تعلقات اور اسلامی اخلاق کے معیار کی وضاحت۔
15۔ بنیادی عقائد
(ترجمہ شرح مقدمہ لابن ابی زید)
دینِ اسلام کے بنیادی اصول اور اعتقادی ضروریات کی جامع توضیح۔
16۔ عورت اور پردہ
عورت کا لباس(ترجمہ للشیخ علی بن عبد اللہ النمی)اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کے لباس اور اس کے احکام کی وضاحت۔
17۔ چہرے اور ہاتھوں کا پردہ
(ترجمہ الشھاب فی کشف الشبھات عن الحجاب للشیخ علی بن عبد اللہ النمی)
پردہ کے متعلق شکوک و شبہات کا علمی اور واضح جواب۔
18۔ مہلک گناہ
(تالیف الشیخ محمد بن صالح المنجد)
وہ گناہ جن کی وجہ سے روحانی و اخلاقی نقصان ہوتا ہے اور ان سے بچاؤ کی رہنمائی۔
نظرِ ثانی و تقریظ
محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ تصنیف و تالیف کے میدان میں محض لکھنے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اہلِ علم کی کتب پر علمی نظرِ ثانی اور تقریظ کے ذریعے علمی امانت کی حفاظت کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔
ان کی نظرِ ثانی محض رسمی نہیں بلکہ دلائل کی تصحیح، منہج کی درستی اور اسلوب کی تہذیب پر مشتمل ہوتی ہے، جس سے کتاب کا علمی وزن اور اعتماد مزید بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح ان کی تقریظ محض تعریفی کلمات نہیں بلکہ کتاب کے منہج، افادیت اور علمی مقام کی واضح نشان دہی ہوتی ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک ان کی تقریظ ایک علمی سند کی حیثیت رکھتی ہے، جو کتاب کے معیار اور قابلِ اعتماد ہونے پر دلیل بن جاتی ہے۔
یہ خدمت دراصل شیخ محترم کے اس علمی مزاج کی عکاس ہے جس میں تحقیق، دیانت اور خیر خواہی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔
زیر انتظام دینی امور اور ادارہ جاتی قیادت
محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نہ صرف علم کے فروغ میں سرگرم ہیں بلکہ متعدد اداروں کی سربراہی اور سرپرستی کے فریضے بھی انجام دے رہے ہیں۔ ان کی قیادت صرف انتظامی مہارت کا نام نہیں بلکہ دعوت و تعلیم میں استقامت، تربیت میں حکمت اور علمی معیار میں بلندی کا آئینہ دار ہے۔
اس وقت ان کے زیر انتظام درج ذیل ادارے فعال ہیں:
1️⃣ امیر جمعیت اہلِ حدیث، سندھ۔
جہاں اہلِ حدیث کے مختلف علمی، تربیتی اور اجتماعی امور کی نگرانی و رہنمائی کرتے ہیں۔
2️⃣ رئیس المعہد السلفیۃ للتعليم والتربية، کراچی۔
یہ ادارہ دین و دنیا کی تعلیم کے توازن کو فروغ دینے اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کا مرکز ہے۔
3️⃣ سرپرست اعلیٰ المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی۔
جہاں تحقیقی و علمی سرگرمیوں، کتب و رسائل کی اشاعت اور دینی علوم کی تحقیق پر توجہ دی جاتی ہے۔
4️⃣ سرپرست اعلیٰ البروج انسٹیٹیوٹ، کراچی۔
اس ادارے کے ذریعے نوجوانوں میں دین کی فہم، منہجِ سلف کی محبت اور علمی تربیت کو عام کیا جاتا ہے۔
5️⃣ سرپرست و بانی دارالہجرة انسٹیٹیوٹ، کراچی۔
جس میں نہ صرف تدریس بلکہ عملی تربیت، دعوتی و اصلاحی پروگرام بھی جاری ہیں، اور یہ ادارہ اسلام کی خدمت میں ایک روشن مثال کے طور پر کام کر رہا ہے۔
یہ ادارے محض تنظیمیں نہیں، بلکہ ایک علمی، تربیتی اور دعوتی مشن کی عملی ترجمانی ہیں، جن کے ذریعے محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے دین کی خدمت کو ایک منظم اور پائیدار شکل دی ہے۔
🤲 اللہ تعالیٰ محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کو کامل صحت، عافیت اور طویل عمرِ بابرکت عطا فرمائےان کی تعلیمی، تدریسی، دعوتی اور تبلیغی محنتوں کو شرفِ قبولیت بخشےان کے علم میں نور، عمل میں اخلاص اور اثر میں دوام عطا فرمائے،اور انہیں دینِ اسلام کی خدمت کے لیے مزید قوت، استقامت اور وسعتِ اثر نصیب فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے حدیثِ نبوی، منہجِ سلف اور صحیح عقیدہ کو عام فرمائے،
ان کے شاگردوں کو علمِ نافع اور عملِ صالح کا پیکر بنائے۔
آمین، ثم آمین یا ربّ العالمین۔
مرتب: حافظ امجد ربانی
فاضل: جامعہ سلفیہ فیصل آباد




