سوال    6667

السلام علیکم و رحمة الله و بركاته!
جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں، اٹلی سے ایک بھائی کا سوال وہاں وہ ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں، ایک ہفتہ مارننگ میں شفٹ ہوتی ہے، اس دن وہ جمعہ ادا کر لیتے ہیں، جبکہ دوسرے ہفتے ایوننگ میں شفٹ ہوتی ہے، اس دن وہ جمعہ ادا نہیں کر سکتے، والدین کافی مقروض ہیں، وہ اپنی ملازمت بھی ترک نہیں کر سکتے تو کیا وہ جمعہ چھوڑ سکتے ہیں اور ظہر کی نماز ادا کر لیں؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و بركاته!
سوال میں بظاہر ایک ابہام پایا جاتا ہے۔ اگر مارننگ شفٹ والے جمعہ ادا کر لیتے ہیں، جبکہ وہ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، اور ایوننگ شفٹ والے جمعہ ادا نہیں کر پاتے، تو یہ بات عقلاً سمجھ سے باہر ہے۔ اس لیے یا تو سوال ہی میں غلطی ہے، یا پھر اس کا اصل مطلب کچھ اور ہے۔
اگر سوال کا مقصود یہ ہے کہ ایوننگ شفٹ والے حضرات سوئے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے جمعہ ادا نہیں کر پاتے، تو ایسی صورت میں کوئی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ فریضہ جمعہ کے مقابلے میں نیند کو ترجیح دینا جائز نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی نیند قربان کرے اور فریضہ ادا کرے۔
اور اگر کوئی نوکری مسلسل ایسی ہو جو انسان کو فرائضِ شرعیہ کی ادائیگی سے روکے، بالخصوص جمعہ جیسے فرضِ عین سے، تو ایسی نوکری برقرار رکھنا درست نہیں، بلکہ ایسی ملازمت چھوڑنا لازم ہے جو ترکِ فریضہ کا سبب بن رہی ہو۔
البتہ کبھی کبھار غیر اختیاری صورت میں ایسا ہو جائے، تو اس پر توبہ و استغفار کی جائے اور اہلِ علم سے رہنمائی لی جائے۔ لیکن مستقل طور پر ترکِ فریضہ کی شرعاً ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ واللہ اعلم۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ