سوال 6887
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اگر کوئی شخص یہ نیت/خود سے عہد کرے کہ میں آئندہ اپنے کاروبار کے منافع کا 15% اللہ کے راستے میں خرچ کیا کروں گا۔ تو کیا وہ مقررہ مقدار اب فرض ہو گئی خرچ کرنا یا صدقہ ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! ارادہ کرنا اور چیز ہے اور بطور نذر کے کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کر لینا اور چیز ہے۔ فیصلہ کریں پہلے، اگر بطور نذر کے لازم کیا ہے تو پھر تو ظاہر سی بات ہے وہ ادا کرنا ہی ہوگا۔ اور اگر ویسے ہی آپ نے ایک اچھا ارادہ کیا کہ ان شاءاللہ میں ایسا کرتا رہوں گا گاہے بگاہے، تو پھر ٹھیک ہے پھر آپ آزاد ہیں، جب موقع ملے کر دیں جب چاہیں نہ کریں، نفلی صدقہ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: کسی خاص شرط کے تحت نہیں بس میں اکثر کوشش کرتا تھا صدقہ کی لیکن تنخواہ خرچ ہو جاتی اور صدقہ نہیں کر پاتا تھا تو اس لیے میں نے ایک عہد کی طرح کہا کہ آئندہ کاروبار یا تنخواہ جو بھی ہو میں ہر ایک سے 15% فیصد اللہ کی راہ میں لازمی خرچ کروں گا اور وہ اللہ کا حصہ ہو گا میرے مال میں۔
جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بظاہر تو یہ نذر دکھائی نہیں دیتی، ایک اچھا اور مستحسن ارادہ جو آپ کے دل میں تھا تو بس وہی تھا، اللہ نے آپ کی چاہت پوری کی اور کبھی رہ بھی گئی اس میں کوئی ان شاءاللہ حرج والی بات دکھائی نہیں دے رہی، کوئی سختی نہیں، نفلی صدقات میں انسان آزاد ہوتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




