سوال (2866)
حدیث میں آتا ہے کہ “اذا امن الامام فامنوا” اب میرا سوال یہ ہے کہ مقتدی امام کے آمین ختم کرنے کے بعد آمین کہے گئے یا امام کے آمین کہنے کے تھوڑی دیر بعد آمین کہے گا؟
جواب
“امن الامام فامنوا” میں فاء معمولی سی تاخیر چاہتا ہے، امام کی آمین ختم ہو، مقتدی سارے ایک ساتھ آمین کہیں، یا تو یہ صورت ہو، البتہ آواز سے آواز مل گئی ہے تو بھی کوئی سختی نہیں ہے، لیکن امام سے پہلے ہرگز جائز نہیں ہے، تقدم نہیں ہونا چاہیے، امام سے پیچھے پیچھے رہنے کی پابندی ہے، ہمارے ہاں عجیب ہوتا ہے، کچھ ساتھ چلتے ہیں، کچھ آخر میں ملتے ہیں، کچھ بالکل لیٹ ہوجاتے ہیں، اس کے لیے تربیت کی ضرورت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: شیخ محترم مقتدی کو آمین کب کہنا چاہیے جب امام آمین کہے یا اسکے کہنے کے بعد، نماز کے ختم ہونے کے بعد فورا اللہ اکبر کہنا چاہیے کہ یا امام کا انتظار کرنا چاہیے، ایک مسجد میں نماز پڑھیں تو وہاں کے امام نے والا الضالین کے بعد بھی کچھ وقفہ کیا اور پھر امام صاحب کے ساتھ سب نے ایک ساتھ آمین کہا اور اسی طرح نماز ختم ہونے کے بعد بھی فورا اللہ اکبر نہیں کیا بلکہ کچھ وقفہ کیا او پھر امام صاحب کے ساتھ سب نے اللہ اکبر کہا۔ اس حوالے سے راہنمائی فرما دیں۔
جواب: جہاں تک آمین کا مسئلہ ہے، امام کے ساتھ اقتداء کی بحث میں ایک امام کی موافقت کرنا ہے، ایک امام کی مخالفت کرنا، یہ جائز نہیں ہے، ایک امام سے سبقت کرنا یہ بھی ناجائز ہے، ایک امام سے بالکل پیچھے ہونا یہ بھی غلط ہے، اس موافقت کی گنجائش تو ہے، ویسے امام کے بعد کہنا ہے، باقی “اللہ اکبر” کب کہنا ہے، اب نماز سے باہر آ چکے ہیں، اس میں موافقت ضروری نہیں ہے۔ باقی خاص شکل سے ذکر کرنا صحیح نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




