سوال (6583)
مشائخ کرام سے سوال ہے کہ کیا مسافر شخص جب مقیم امام کی اقتداء میں نماز پڑھے گا تو کیا وہ قصر کرے گا یا پوری پڑھے گا۔۔۔ کچھ علماء کہتے ہیں اگرچہ وہ امام کی اقتداء میں ہے لیکن ہے تو مسافر ہی وہ ہر حال میں قصر کرے گا، راجح موقف کی طرف راہنمائی کریں۔
جواب
یہ قول راجح نہیں ہے کہ مسافر ہر صورت امام کے پیچھے اسی طرح پڑھے کہ اگر امام مقیم ہو اور چار رکعت پڑھا رہا ہو تو مسافر دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے، یا دو پڑھ کر بیٹھا رہے اور امام جب پوری کرے تو اس کے ساتھ سلام پھیر دے۔ ایسی صورت میں دراصل امام کی اقتدا نہیں ہو رہی، لہٰذا یہ طریقہ حدیث کے خلاف ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
«إنما جُعل الإمام ليُؤتمَّ به»
یعنی امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی تھا کہ وہ مقیم امام کے پیچھے پوری نماز ادا کرتے تھے۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ: یا تو اپنی نماز الگ پڑھ لی جائے،
یا اگر امام کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہوں اور امام مقیم ہو، تو پھر نماز پوری ہی ادا کی جائے گی۔
یہی قول راجح ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




