سوال       6731

رسول اللہ صلی عالم نے فرمایا: میں کسی مسلمان کی مدد کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں مسجد نبوی میں ایک مہینہ اعتکاف کروں۔ ” [سلسلہ احادیث صحیحہ: 2593]
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! اس حدیث کی وضاحت مطلوب ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! سلسلہ صحیحہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کو ذکر کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ اہل علم اس کو بیان بھی کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ سند میں کلام ہو، لیکن من حیث المجموع معنی کے اعتبار سے مقبول ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ نفلی عبادت سے بڑھ کر حقوق العباد کو بجا لانا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ