سوال (2934)
مستدرکِ حاکم کی روایات کیسی ہیں؟
جواب
مستدرك الحاكم على الصحيحين کتبِ حدیث کی اہم کتابوں میں سے ہے، جس میں مصنف دعوی صحیحین کے علاوہ دیگر صحیح احادیث کو جمع کرنا تھا، کیونکہ آپ کے زمانے میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ صحیح احادیث وہی ہیں جو صحیح بخاری و مسلم میں ہے، اس دعوی کی تردید کے لیے مستدرک کی تصنیف عمل میں آئی۔
امام حاکم کے منہج اور مستدرک کے مقام و مرتبے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں طویل بحثیں موجود ہیں، خلاصہ جس کا یہ ہے کہ مستدرک’ صحیح بخاری و مسلم’ کے پائے کی کتاب نہیں ہے بلکہ ان مصادر حدیث میں سے ہے، جس میں ہر قسم کی روایات موجود ہیں، بعض بخاری ومسلم کی شرط پر، بعض اس سے کم درجے کی لیکن صحیح یا حسن درجے کی ہیں، اسی طرح ضعیف اور موضوع تک روایات بھی اس میں موجود ہیں۔ لہذا کسی بھی حدیث کا مستدرک میں ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کی تحقیق و تصدیق کی ضرورت ہو گی۔ امام ذہبی سے لیکر شیخ البانی تک اہل علم اور محققین نے مستدرک کی احادیث کی تحقیق پیش کی ہے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ کسی بھی حدیث کو نقل کرنے سے پہلے اگر صلاحیت ہو تو خود تحقیق کرلیں، نہیں تو کم از کم معتبر اہل علم کی تحقیق سے استفادہ کر لیں۔
بعض جذباتی قسم کے لوگ امام حاکم اور ان کی مستدرک کو تحقیر و تنقیص کی نظر سے دیکھتے ہیں، یہ رویہ درست نہیں اور بعض موضوع اور من گھڑت روایات کو صرف اس لیے منوانا چاہتے ہیں کہ وہ مستدرک میں ہیں، دونوں رویے افراط و تفریط پر مشتمل ہیں۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




