سوال (6565)

آج کل آنلائن کیے جانے والے کاموں میں سے ایک کام SEO کا ہے جس میں مختلف طریقے اختیار کرکے ویبسائٹ کی ویزیبلٹی بڑھائی جاتی ہے تاکہ وہ سرچ کیے جانے پر سرچ رزلٹس میں سب سے اوپر نظر آئیں۔ یہ کام کرنے والے نوجوان بیرون ممالک سے آرڈر حاصل کرنے کیلئے وہاں پر مستعمل (زیادہ تر عیسائی) ناموں کی آئی ڈی بناکر اسی پر لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں۔
تو کیا اس طرح اپنی اصل شناخت چھپا کر جعلی شناخت کے ساتھ کام کرنا اور اس کی آمدنی جائز ہے؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا

جواب

یہ دھوکہ ہے، اپنا نام بدلنا اپنے آپ کو غیر مسلم ظاہر کرنا، پھر لوگوں کو انتہائی رنگوں کے ساتھ مائل کرنا، پروڈکٹ کی تشہیر کے لیے کیا کچھ کرنا، یہ محض دھوکہ ہے، صرف نام ہی تبدیل نہیں کرتے بلکہ خود کو غیر مسلم ثابت کر رہے ہوتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ اور بیع غرر سے منع کیا ہے، صرف چیز میں غرر نہیں ہوتا ہے، طریقہ کار میں بھی غرر ہوتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ