سوال (5451)
الیاس گھمن صاحب کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی مٹی کعبہ، کرسی، اور عرش سے بھی اعلی ہے اس میں شرعی راہنمائی درکار ہے؟
جواب
جی بھائی یہ عبارت دیوبند کی مشہور عقیدہ کی کتاب المھند علی المفند میں درج ہے یہ کتاب احمد رضا خان بریلوی کی کتاب کے جواب میں لکھی گئی تھی تو اس میں نبیﷺ سے محبت کے دلائل میں غلو کیا گیا اس پہ اگرچہ کچھ پرانے علما سے بھی ایسی بات ملتی ہے ابن قیم نے بھی اپنی کتاب بدائع الفوائد میں ابن عقیل کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ خالی حجرہ کعبہ سے افضل نہیں لیکن حجرہ میں آپ ہوں تو پھر وہ کعبہ و عرش سے بھی افضل ہے یعنی وہ فضیلت انہوں نے نبیﷺ کی ذکر کی ہے خالی مٹی کی نہیں۔
البتہ کچھ اور نے خالی قبر کی مٹی کی فضیلت کو بھی قیاس کر لیا ہے جو کہ باطل قیاس ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی نص موجود نہیں صرف وہ اجماع کا دعوی کرتے ہیں جو بغیر دلیل کے ہے اور قیاس کے بھی خلاف ہے۔
قیاس میں وہ کہتے ہیں جو چونکہ مخلوق میں سب سے افضل نبی ﷺ ہیں تو انکے ساتھ منسوب (چھونے والی) مٹی بھی پھر باقی سب مخلوق سے افضل ہو گی تو یاد رکھیں انکا یہ قیاس ہی باطل ہے کیونکہ نبی ﷺ کو خالی باہر سے چھونے سے اگر کوئی چیز افضل ہو سکتی تھی تو جو چیز آپ کے اندر سے ہو کر باہر آئے یعنی آپ کا بول و براز وغیرہ تو ہو تو پھر اس سے کہیں زیادہ افضل ہونا چاہئے اور اسکو ناپاک بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ کوئی نہیں مانتا۔
ایک کہ رہا تھا کہ جی بول براز مستقل ذات نبی ﷺ کے ساتھ مس نہیں ہوتا لیکن مٹی اب مستقل ذات نبی کے ساتھ مس ہے تو وہ زیادہ افضل ہوئی میں نے کہا کہ یہ تو آپ کا قیاس ہے پھر اسی طرح کوئی دوسرا یہ قیاس بھی تو کر سکتا ہے کہ جو باہر سے چھوئے وہ کم فضیلت والی ہے اور جو جسم کو اندر سے چھو کر آئے وہ زیادہ فضیلت والی ہے یہ زیادہ بہتر قیاس بنتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ قیاس میں فضیلت خالی نبیﷺ کے جسم سے مس ہونے کی مٹی کو نہیں دی گئی ہے بلکہ پوری قبر بلکہ پورے حجرے کو دی گئی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ خالی مس ہونے کی وجہ سے فضیلت نہیں بلکہ قربت اور تعلق کی وجہ سے وجہ سے فضیلت ہے تو پھر عرش کی اللہ سے قربت زیادہ ہے یا پھر اس حجرہ یا قبر کی نبی ﷺ سے قربت زیادہ ہے۔
پھر تو جو اللہ کے قریب ہے یعنی عرش وہ زیادہ فضیلت والا ہوا۔ ویسے انکے ہاں تو اللہ ہر جگہ موجود ہے شاید اس لئے یہ قیاس انکو درست نہیں لگتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب باتیں باطل قیاس یا باطل اجماع کے تحت کی گئی ہیں انکے قائل کو کافر نہیں کہا جائے گا مسلمان ہی سمجھا جائے گا کیونکہ بڑے اکابر بھی ایسی بات کہ چکے ہیں البتہ اس بات کو غلط ہی کہا جائے گا۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




