سوال (6421)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْعَطَاءٍ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِيَ الرَّجُلُ فَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِسْلُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، [سنن ابي داود: 643]
کیا یہ روایت درست ہے؟
جواب
جی ہاں یہ روایت صحیح ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: اس میں منہ پر کپڑا لینا بھی منع ہے؟ پہلی بھی ایک سینڈ کی تھی تو اسکا جواب آیا تھا کہ منہ کے آگے کپڑا کرنا منع نہیں ہے۔
جواب: عام طور پر یہ مسئلہ اس طرح ہے، الا یہ کہ کسی انسان کو ضرورت پڑ جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: اگر نارمل روٹین میں بندہ سردی کی وجہ سے رکھے تو منع ہے یا نہیں؟
جواب: نماز کے علاؤہ کوئی حرج نہیں ہے، بعض روایات میں نماز کا ذکر ہے، باقی عام روٹین میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
1۔ یہ مرفوعا ثابت نہیں۔ ترمذی: 643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ نَهَی عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل سے منع فرمایا ہے اور اس سے بھی کہ انسان منہ ڈھانپ کر (ڈھاٹا باندھ کر) نماز پڑھے۔
حسن بن ذکوان مدلس کا عنعنہ ہے۔ سندہ،ضعیف
2۔ چہرہ ڈھانپ کر نماز پڑھنے کی ممانعت پر کوئی پر مرفوع،موقوف روایت سندا ثابت نہیں۔ البتہ بعض اسلاف نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
موطا امام مالک حدیث نمبر: 28
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ أَنَّهُ کَانَ يَرَی سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ إِذَا رَأَی الْإِنْسَانَ يُغَطِّي فَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي جَبَذَ الثَّوْبَ عَنْ فِيهِ جَبْذًا شَدِيدًا حَتَّی يَنْزِعَهُ عَنْ فِيهِ،
ترجمہ:عبدالرحمن بن مجبر سے روایت ہے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب کسی کو دیکھتے تھے کہ منہ اپنا ڈھانپے ہے نماز میں کھینچ لیتے تھے کپڑا زور سے یہاں تک کہ کھل جاتا اس کا منہ۔ سندہ،صحیح
3۔ نماز میں سدل کے حوالے سے مرفوع روایات میں تو ضعف ہے۔ اس کی کراہت پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا اثر ثابت ہے۔
ابن ابی شیبہ کتاب: جمعہ کا بیان
باب: نماز میں سدل کرنا مکروہ ہےحدیث نمبر: 6545
عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّهُ کَرِهَ السَّدْلَ فِی الصَّلاَۃ، مُخَالَفَهً لِلْیَهُودِ، وَقَالَ: إِنَّهُمْ یَسْدُلُونَ،
ترجمہ: حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے نماز میں یہودیوں کی مخالفت کی وجہ سے سدل کو مکروہ قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یہودی کپڑوں کو عبادت کے دوران لٹکاتے ہیں۔ سندہ،صحیح، واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




