سوال          6847

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم نماز تراویح کے بعد وتر کی نماز پڑھنے کے بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قیام اللیل، تراویح، تہجد، اور وتر سب ایک ہی نماز کے نام ہیں، اور مقصود قیامِ لمبا ہے، خانہ پوری نہیں۔
اگر وقت پھر بھی بچ جاتا ہے اور آپ میں ہمت بھی ہے، یا آپ جماعت سے پڑھ کر آئے ہیں، اور رات کو دل چاہ رہا ہے کہ مزید پڑھیں، تو کوئی حرج نہیں ہے۔ آپ دوبارہ پڑھ سکتے ہیں۔
چاہے دو، چار، چھ، آٹھ رکعتیں ہوں جو مقدر میں ہوں، وہ پڑھ لیں، کوئی حرج نہیں۔ طلق بن علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ سننِ ابی داؤد میں موجود ہے، انہوں نے باقاعدہ جماعت کے بعد دوبارہ بھی پڑھائی تھی۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: روایت کا نمبر اور حکم کیا ہے؟

جواب: لا وتران في ليلة يعني حديث: زارنا طلق بن علي في يَوْمِ مِن رَمَضانَ، وأمسى عِندَنا، وأفطر، ثم قام بنا اللّيلة، وأوتَرَ بنا، لاک ثم انحدر إلى مَسجِدِه فصلى بأصحابه حتى إذا بقي الوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا فقال: أوتر بأصحابك، فإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلَّى الله عليه وسلَّم يَقُولُ: لا وتران في ليلة.]
خلاصة حكم المحدث: حسن
الراوي :طلق بن علي الحنفي | المحدث: ابن حجر العسقلاني | المصدر : فتح الباري لابن حجر|الصفحة أو الرقم: 2/558| التخريج : أخرجه أبو داود (1439)، والنسائي (1679) بزيادة قصة في أوله، والترمذي (470)
التصنيف الموضوعي: تراويح وتهجد وقيام ليل- لا وتران في ليلةتراويح وتهجد وقيام ليل-

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ