سوال (4099)

نماز میں کہاں کہاں سجدہ سہو کرنا پڑتا ہے اور وہ کون سی ہیں صورتیں ہیں، دوسرا کہ نماز کس چیز کے چھوٹ جانے سے دوبارہ پڑھنا پڑھے گئی۔

جواب

فرض، سنن اور رکن جو اہل علم نے کتاب و سنت سے بات سمجھی ہے، وہ فقھاء نے بیان کیا ہے، دلائل کی رو سے جس کو شریعت نے لازمی قرار دیا ہے، اس کو فرض اور رکن کے درجے میں ڈالا ہے، جو شریعت نے عمومی طور پہ ذکر کیا ہے، اس کو شریعت نے استحباب کے درجے میں ڈالا ہے، قیام، سورۃ فاتحہ، رکوع، سجدہ یہ رکن بھی ہیں اور فرض بھی ہیں، آخری قعدہ اور سلام فرض ہے، اس طرح اہل علم نے دلائل کی رو سے تفصیل بیان کی ہے، اب رکن یا فرض میں سے کوئی چیز رہ جائے تو وہ پوری رکعت دہرانا پڑے گی، پھر دو سجدے کرنے پڑیں گے، اگر رکن یا فرض کے علاؤہ کچھ رہ جاتا ہے تو سجدہ سہو سے گزارا ہو جائے گا۔ جیسا کہ پہلے تشھد کا تذکرہ ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ اگر سبحانک اللہم وغیرہ اس طرح کی دعائیں رہ جائیں تو سجدہ سہو کریں گئے!
جواب: عمومی قاعدہ ہے کہ “لکل سهو سجدتان” ہر سہو کے لیے دو سجدے ہیں، دیکھیں اس کو اگر زیادہ عموم پر لے آئیں تو گنجائش نکل آئے گی، ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ اس پر سجدہ سہو نہیں ہے، اقوال چھوڑنے پر سجدہ سہو نہیں ہے، باقی فاتحہ فرض کے درجے پر ہے، ثناء مسنون ہے، اگر رہ گئی ہے تو ٹھیک ہے، نماز آپ کی درست ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ