سوال (1649)

نماز میں سورت الفاتحہ کے علاوہ قراءت کا کیا حکم ہے؟

جواب

سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد نماز میں مزید قراءت کرنا واجب نہیں ہے، چاہے نماز فرض ہو یا نفل، جہری ہویا سرّی، مقتدی نماز میں بعد میں آکر ملا ہو یا شروع میں، چنانچہ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
“ہر نماز میں قراءت کرنا واجب ہے، جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے ہمیں سنایا تو ہم بھی تمہیں ان میں سناتے ہیں، اور جن نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز مخفی رکھی ہے تو ہم بھی ان میں مخفی رکھتے ہیں، اور جو شخص سورہ فاتحہ پڑھ لے تو اسے کافی ہے، اور جو زیادہ پڑھے تو یہ اس کیلئے افضل ہے” صحیح البخاری [حدیث نمبر: 738] کے الفاظ ہیں: “اور اگر تم زیادہ پڑھو تو یہ بہتر ہے” [مسلم : 396]
نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
” آپ رضی اللہ عنہ کا یہ قول: “اور جو شخص سورۃ فاتحہ پڑھ لے تو اسے کافی ہے، اور جو زیادہ پڑھے تو یہ اس کیلئے افضل ہے” اس میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کے واجب ہونے کی دلیل ہے، اور اس بات کا بھی بیان ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر کوئی اور سورت اس کا قائم مقام نہیں بن سکتی ہے۔

فضیلۃ الباحث کامران الہیٰ ظہیر حفظہ اللہ

سوال: باجماعت نماز میں امام کے پیچھے سامع کی مکمل توجہ صرف اغلاط پر ہی ہوتی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ وہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے ساتھ ساتھ قرات بھی کر رہا ہوتا ہے، تو کیا اس کا یہ عمل امام کے پیچھے ممنوعہ قرات کے زمرے میں نہیں آتا ہے؟

جواب: امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ کے علاؤہ اجازت نہیں ہے، اس کو عادت نہ بنائیں، نہ ایسا قصداً و ارادتاً کیا جائے، باقی غیر ارادی طور پر ہوجائے تو الگ بات ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ