سوال (6612)
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم ایک بھائی کا سوال ہے کہ جہاں وہ کام کرتا ہے وہاں ایک دو بندے بہت نفرت کرتے مجھ سے حسد کرتے یہاں تک کہ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں وجہ صرف ایک ہے کہ میں حرام نہیں کھاتا اور ان کے کھانے میں روکاوٹ بنا ہوا ہوں۔ ابھی وہ مجھے بلاتے نہیں تو پھر بھی کیا، اگر میں ان کو نہ بلاؤں تو گہنگار ہوں گا۔ تین دن سے زیادہ ناراض رہنے والی حدیث کے تحت۔ رہنمائی فرما دیں۔ شکریہ
جواب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یقینا زندگی میں ہماری آزمائش اسی طرح ہوتی ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
«فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي نَفْسِهِ، وَفِي أَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَوَلَدِهِ، وَجَارِهِ»
یعنی بندے کی آزمائش اس کی جان میں، اہل خانہ میں، مال میں، اولاد میں اور پڑوسی میں ہوتی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حق بات حلق سے نہیں اترتی، اس لیے حکمت سے کام لینا چاہیے۔
ہر وقت سمجھانا ضروری نہیں؛ گاہے بگاہے سمجھائیں اور نرمی اختیار کریں۔
آپ سلام میں پہل کرتے رہیں، بس اتنی بات کافی ہے۔ اگر ملاقات یا گفتگو میں کمی آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں، مکمل قطع تعلق نہ ہو۔
کم از کم سلام کی حد تک تعلق باقی رہے تو یہ قطع رحمی میں شمار نہیں ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




