سوال (2749)

نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر نشہ عقل پر غالب تھا تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

اگر نشہ عقل پر غالب تھا تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو الفاظ ہی یاد نہیں ہیں کہ میں نے کیا کہا ہے۔ اگر اس کو الفاظ یاد ہیں تو طلاق ہوگئی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

اس میں علماء نے اختلاف کیا یے، راجح بات یہی ہے کہ نشے کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، خصوصا جب یہ عقل پر غالب ہو، یہی قول امام أحمد بن حنبل اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہما کا ہے۔
اس کی دلیل علماء نے حدیث ماعز بن مالک سے لی ہے جو کہ صحیح مسلم کتاب الحدود میں موجود ہے۔

قال الامام مسلم: عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال جاء ماعز بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله طهرني فقال ويحك ارجع فاستغفر الله وتب إليه قال فرجع غير بعيد ثم جاء فقال يا رسول الله طهرني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ويحك ارجع فاستغفر الله وتب إليه قال فرجع غير بعيد ثم جاء فقال يا رسول الله طهرني فقال النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك حتى إذا كانت الرابعة قال له رسول الله فيم أطهرك فقال من الزنى فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أبه جنون فأخبر أنه ليس بمجنون فقال أشرب خمرا فقام رجل فاستنكهه فلم يجد منه ريح خمر قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أزنيت فقال نعم فأمر به فرجم۔۔۔۔۔۔

اس حدیث کے الفاظ “أشرب خمرا …” سے استدلال کیا گیا ہے۔
والله تعالى أعلم والرد إليه أسلم.

فضیلۃ الباحث ابو دحیم محمد رضوان ناصر حفظہ اللہ

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخ کرام ایک سوال ہے کہ خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور چند دن بعد عدت کے دوران رجوع کر لیا پھر نشے کی حالت میں دوبارہ طلاق دے دی اب وہ صلح کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس نے اپنے نشے کی حالت میں ہونے کا حلفیہ بیان بھی دے دیا ہے اس کے بارے میں اگر فتویٰ دینا ہو تو کس طرح دیا جائے گا؟
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حلفیہ بیان کیسا ہے، مطلب طلاق دیتے وقت ہوش حواس میں تھا یا کہ نہیں تھا بلکہ کسی گھر کے فرد نے بتایا ہے کہ آ پ نے طلاق دی ہے؟

فضیلۃ الشیخ انصر محمود حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس معاملے میں سب سے پہلے مکمل وضاحت طلب کرنا ضروری ہے اور معتبر گواہوں سے بھی تحقیق کی جائے کہ اصل واقعہ کیا تھا۔
اگر شوہر یہ حلفیہ بیان دے کہ اسے اپنے کہے ہوئے الفاظ یاد نہیں، یا اس وقت وہ ہوش و حواس میں نہ تھا، اس قدر مدہوش تھا کہ عقل زائل ہو چکی تھی (مثلاً فاقد العقل یا شدید سکران کی حالت میں تھا)، تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ شرعاً ایسی حالت میں انسان معذور شمار ہوتا ہے۔
البتہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ نشہ کی حالت میں ہونے کے باوجود اپنے الفاظ سے آگاہ تھا اور اسے معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، تو پھر طلاق واقع ہو جائے گی۔
ایسی صورتحال میں بہتر ہے کہ خاندان کے کسی معزز بڑے یا ذمہ دار شخص کو درمیان میں ڈال کر اس شخص کی اصلاح کی جائے، اسے سنجیدگی کا احساس دلایا جائے، اور عورت کو بھی پوری طرح سمجھایا جائے۔ ایسے معاملات میں پہلے اصلاح، روک تھام اور ذمہ داری کا تقاضا ہے، محض فتوے بعد میں دیے جانے چاہئیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ