سوال (5749)
ایک خاتون کا سوال آیا ہے کہ اس کا بیٹا نیند آرام، درد کی کافی گولیاں کھا کر سخت نشے کی حالت میں تھا اور اپنے ہوش حواس میں نہیں تھا کہ اس نے اس حالت میں اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں 3 طلاق دے دیں۔
پھر اسی دن مختلف اوقات میں مزید 5 سے 6 مرتبہ طلاق کے الفاظ دھرائے اور خود کو زخمی بھی کیا اسکے 3 بچے ہیں اور اسکی مذکورہ بیوی حاملہ بھی نہیں ہے۔ اور یہ کام اس نے 3 جولائ 2025 کو کیا ہے۔اور اس سے قبل کبھی طلاق نہیں دی۔ مذکورہ ماں اب اپنے بیٹے کے متعلق پریشان ہے اور اسکا شرعی حل اور رجوع کے حوالے سے رہنمائ کی طلبگار ہے؟
درخواست ہے کہ مہربانی فرما کر شرعی دلائل کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جواب
اس حوالے سے اصول یہ ہے کہ اگر تو واقعتا انسان ایسی کیفیت میں ہو کہ اس کے ہوش وحواس کام نہ کر رہے ہوں تو پھر اس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ شرعی اعتبار سے مکلف ہونے کے لیے انسان کا عاقل ہونا ضروری ہے، جبکہ ایسے شخص کی عقل ماؤف ہوتی ہے۔ لہذا اس کی طرف طلاق دینا یا کوئی اور معاملہ کرنا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا۔
لیکن اگر کوئی شخص اگرچہ نشہ کی حالت میں ہو یا بیماری کی کیفیت میں ہو، لیکن اس کے ہوش ہو حواس قائم ہوں کہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھ رہا ہو، تو پھر اس کی طرف سے دی گئی طلاق معتبر ہو گی۔
عموما لوگوں کی کیفیت یہی دوسری والی ہوتی ہے، لیکن جس طرح طلاق دے کر اور الٹے سیدھے بہانے بولتے ہیں، اسی طرح یہ بھی عذر کرتے ہیں کہ میں سخت نشے میں تھا، یا سخت غصے میں تھا وغیرہ وغیرہ۔
جو شخص ہوش و حواس میں نہیں، وہ اپنی بیوی کو ہی کیوں طلاق دیتا ہے، اس کو چاہیے اپنی ماں یا گھر کے کسی اور فرد کو کہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں.. پھر بیوی کو بھی وہ ’طلاق’ ہی کیوں دیتا ہے؟ وہ کہے کہ میں تجھ سے ’نکاح’ کرتا ہوں، میں تمہیں اپنے گھر کا مالک بناتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ جس بندے کی عقل ماؤف ہے وہ درجنوں افراد میں سے ایک بیوی ہی کا انتخاب کس بنیاد پر کر لیتا ہے؟ اور لاکھوں الفاظ میں سے ایک لفظ طلاق ہی اس کی زبان پر کیوں آتا ہے؟
بہر صورت یہ اضافی باتیں ہیں، اصول وہی ہے جو اوپر عرض کر دیا گیا ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




