سوال 6673
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! شیخ محترم ایک پوسٹ شیئر کی کسی نے کہ اپنی نعمتوں کا ذکر بندوں سے نہ کیا کرو یا ان سے جن کو آپ اپنا نہیں سمجھتے وہ حسد کریں گے نظر لگ جائے گی وغیرہ۔
تو ایک بھائی نے جواب دیا کہ آپ نے کہاں سے پوسٹ لے لی جبکہ قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ نعمتوں کا ذکر دوسرے بندوں سے کرو زمین میں پھیلا دو۔۔۔ رہنمائی فر مادیں شکریہ
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال کے اسلوب سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ دراصل کسی انکارِ حدیث کے فکر رکھنے والے شخص سے متعلق ہے۔ ایسے افراد کے ساتھ مناقشہ، مناظرہ یا جزوی مباحث میں الجھنا درست طرزِ عمل نہیں۔ اصل اور بنیادی موضوع حجیتِ حدیث ہے، اسی ایک نکتے پر گفتگو کی جائے۔ اگر حدیث کو حجت مان لیا جائے تو بہت سے شرعی مسائل خود بخود واضح ہو جاتے ہیں، اور اگر کوئی حدیث کی حجیت ہی کا انکار کرے تو پھر وہ سنگین اعتقادی مسئلہ ہے، جس کے اپنے اثرات ہیں۔
رہی آیت ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ تو اس سے نعمت کا اظہار مراد ہے، مگر ہر نعمت کا ہر حال میں اعلان کرنا مقصود نہیں۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے:
“اسْتَعِينُوا عَلَى إِنْجَاحِ الْحَوَائِجِ بِالسِّتْرِ وَالْكِتْمَانِ، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ”
یعنی اپنے مقاصد کی تکمیل پوشیدگی کے ساتھ کرو، کیونکہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ ہر چیز چھپائی جائے، بلکہ جہاں یہ اندیشہ ہو کہ اظہار سے نقصان، رکاوٹ یا نظرِ بد لاحق ہو سکتی ہے، وہاں احتیاط ہی بہتر ہے۔
لہٰذا دونوں پہلوؤں میں توازن ضروری ہے۔ نہ ہر نعمت کا اندھا دھند اعلان درست ہے اور نہ ہر چیز کا چھپانا لازم۔ ان نصوص کو الگ الگ سمجھا جائے اور ان کے درمیان غیر ضروری ٹکراؤ پیدا نہ کیا جائے۔ اسی اصول پر حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے بیٹوں سے کہنا کہ “ایک دروازے سے داخل نہ ہونا” تھا، جس کا مقصد بھی انہیں نظرِ بد سے بچانا تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر نص کو اس کے سیاق، محل اور مقصد کے مطابق سمجھا جائے، یہی اعتدال اور درست فہم کا طریقہ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




