سوال (2896)

میں ایک آن لائن کام کرتی ہوں، جس میں مجھے کچھ تصویریں دی جاتی ہیں کھولنے کے لیے، تصویریں اسلامی ہوتی ہیں، کوئی اس میں بری چیز نہیں ہوتی ہے، وہ تصویریں میں کھولتی ہوں اور ساتھ اپنے لوگوں کو بھی دوستوں کو بھی یہ کام جوائن کرواتی ہوں، ممبرز بناتی ہوں، ایک آن لائن ورک ہے، جس میں 750 روپے جمع کرواتے ہوتے ہیں، اس کے بعد ممبرز بنانے ہوتے ہیں، لوگوں کو اس کمپنی کو جوائن کروانا ہوتا ہے، اگر ہم لوگوں کو جوائن کرواتے ہیں، مطلب محنت کرتے ہیں، لوگوں کو جوائن کروا کر لوگوں سے پوچھ کر تو انہیں یہ کمپنی جوائن کرواتے ہیں اور اس کے بعد ہمیں پیسے ملتے ہیں تو کیا یہ سود ہے یا حرام ہے؟

جواب

وہی پرانا طریقہ کار ہی ہے، جس پر کئی دفعہ وضاحت کی جا چکی ہے۔ یہ نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کہلاتا ہے، جس میں سود، جوا، غرر وغیرہ کئی ایک قباحتیں ہوتی ہیں۔ مختلف آن لائن/ آف لائن کمپنیاں یہ حرکتیں کرتی ہیں اور ہوتی عموما ساری ہی فراڈ ہیں۔ تفصیل درج ذیل فتاوی میں دیکھ لی جائے:

نیٹ ورک مارکیٹنگ سے متعلق فتاوی اور سوالات و جوابات

اس میں جھانسہ یہ دیا جاتا ہے کہ ہم آپ کو کام دیں گے جس سے آپ کی انکم ہو گی.. لیکن حقیقت میں ہر شخص سے جوائننگ فیس یا رجسٹریشن فیس کے نام سے خود کمائی کی جاتی ہے۔ جیسا کہ یہ خاتون نے 750 دیکر جوائن کیا ہوگا، اور پھر اس کے بعد مسلسل مزید لوگوں کو قائل کر رہی ہوں گی کہ آپ بھی جوائن کریں اور 750 دیں۔
گزارش یہ ہے کہ آپ کو پیسے بعد میں ملتے ہیں یا نہیں، لیکن کمپنی والے آپ سے کما چکے ہوتے ہیں اور مسلسل کہتے ہیں کہ اور لوگوں کو لائیں تاکہ ہم اور کمائیں۔ یہ ایسا شاطرانہ طریقہ ہے کہ اس میں کمپنی نے آپ کو ایک روپیہ بھی نہیں دینا ہوتا، آپ نے آگے جو مرغیاں پھنسانی ہوتی ہیں، انہیں میں سے کچھ پرسنٹیج آپ کو ملتی ہے۔
اصولی بات یہ ہے کہ اگر آپ کو انہوں نے کوئی نوکری دینی ہے اور کام کروانا ہے تو پھر آپ سے پیسوں کا مطالبہ کس لیے؟ اور آپ سے یہ مطالبہ کیوں کہ آپ مزید لوگوں کو جوائن کروائیں؟
بہرصورت اس پر بڑی شرح و بسط کے ساتھ کئی دفعہ لکھا جا چکا ہے، اوپر لنکس کے اندر تفصیل دیکھ لیں، مزید اس پر میں نے ایک تفصیلی ویڈیو بھی ریکارڈ کروائی تھی، ذیل کے لنک سے ملاحظہ کی جا سکتی ہے:

YouTube player

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ