سوال (6512)
شیخ محترم کیا نکاح فرض ہے یا سنت؟ قرآن وحدیث سے دلائل دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔ بارک اللہ
جواب
نکاح سنت ہے۔ اور بلاعذر سنت سے اعراض محرومی کا باعث ہے۔
صحیح مسلم، کتاب: نکاح کا بیان
باب: جس میں استطاعت طاقت ہو اس کے لئے نکاح کے استحباب کے بیان میں۔ حدیث نمبر: 3403
و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَائَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا آکُلُ اللَّحْمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَنَامُ عَلَی فِرَاشٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا کَذَا وَکَذَا لَکِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَائَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي،[صحيح البخاري: 1905]
ابوبکر بن نافع، بہز، حماد بن سلمہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی رضوان اللہ تعالیٰ عنھم میں سے ایک جماعت نے ازواج نبی ﷺ سے آپ ﷺ کے گھریلو اعمال کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے بعض نے کہا میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا اور بعض نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور بعض نے کہا کہ میں بستر پر نیند نہیں کروں گا آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور فرمایا قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح گفتگو کی ہے حالانکہ میں نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں *پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں میرے طریقے پر نہیں۔
نکاح کو فرض نہیں کہتے لیکن شریعت میں اس کی تاکید ضرور ہے۔ اگر کوئی نکاح کی استطاعت نہیں رکھتا تو شریعت نے روزے رکھنے کی ترغیب دی ہے تاکہ شہوت انسان کے کردار کو داغ دار نا کردے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلتہ الشیخ ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




