سوال (6484)

نکاح کے بعد اگر بغیر ازدواجی تعلق قائم ہوئے خاتون والد کے گھر سے واپس آنے پر رضامند نہ ہو اور طلاق کا مطالبہ کرے تو کیا یہ خلع کہلائے گا؟ دوسری بات: ایسی صورت میں مرد لڑکی کے خاندان سے اپنی شادی کا خرچ اور مزید تاوان لینے کا مجاز ہے یا نہیں ؟ اور اگر یہ صورت خلع بنتی ہے تو اس صورت میں لڑکی کا سامان واپس کیا جائے یا نہیں؟ افیدونی افادکم اللہ ونفع اللہ بکم الامۃ

جواب

خلع کی صورت میں عورت اگر حق مہر واپس لے چکی ہے تو واپس کردے، یہ تو ملتا ہے، مرد اگر بغیر صحبت کے طلاق دیتا ہے تو آدھا حق مہر اس کا حق ہے، نکاح کے بعد بغیر رخصتی طلاق دیتا ہے تو پھر بھی آدھا حق مہر اس کا حق ہے، اگر صحبت کے بعد دیتا ہے تو پورا اس کا حق ہے، یہ تو آپ کو معلوم ہے، باقی جو خرچے وغیرہ ہیں، وہ درگزر کرنا چاہیے، ہر کوئی مقدر کا کھاتا ہے، باقی تحفے تحائف بھی واپس نہیں لینے چاہیے، اگر اس کی طرف مطالبہ ہے تو خلع ہے، خلع کی صورت میں عورت حق مہر واپس کردے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ