سوال (6586)

ایک مرد کی شادی ایک عورت سے ہوئی، اور تقریباً 12 سال ساتھ رہے، جن سے تین بچے بھی پیدا ہوئے۔ شادی کے بعد شوہر بار بار بیوی سے اس کا اصل شناختی کارڈ (CNIC) مانگتا رہا تاکہ بچوں کا نادرا میں اندراج کروا سکے، مگر بیوی ہر بار ٹال مٹول کرتی رہی اور کہتی رہی کہ کارڈ والدین کے پاس ہے، لا کر دے دوں گی، بعد میں جب بچوں کے تعلیمی معاملات کے لیے نادرا گئے تو انکشاف ہوا کہ اس عورت کی پہلے سے ایک شادی موجود تھی، اور اس نے اس پہلے شوہر سے صرف دو سال پہلے طلاق لی تھی، حالانکہ وہ موجودہ شوہر کے ساتھ 12 سال سے رہ رہی تھی۔ جب اس عورت سے سختی کے ساتھ پوچھا گیا تو اس نے اعتراف کیا کہ موجودہ شادی سے پہلے اس کی ایک شادی ہو چکی تھی۔ اس صورتحال کے سامنے آنے کے بعد موجودہ شوہر نے یہ کہہ کر عورت کو گھر واپس بھیج دیا کہ پہلے شوہر کی موجودگی میں نکاح پر نکاح درست نہیں ہوتا۔
اب درج ذیل سوالات ہیں:
جو تین بچے اس ازدواجی زندگی سے پیدا ہوئے ہیں، کیا وہ شرعاً حلال النسب ہیں یا نہیں؟
اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے، جو پہلے شوہر کی موجودگی میں کیا گیا ہو؟ کیا اس مسئلے کا کوئی شرعی حل موجود ہے؟
عورت کے گھر والے شوہر پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ دوبارہ نکاح کر کے اسے ساتھ لے جائے، تو کیا یہ شرعاً درست ہے؟
یہ بھی واضح رہے کہ عورت نے پہلی شادی اپنی مرضی سے گھر سے بھاگ کر کی تھی، اس وقت ولی موجود نہیں تھا، اور وہ پہلے شوہر کے ساتھ تقریباً تین سال رہی۔
ایسی صورت میں ایسا کیا حل نکالا جائے کہ بچوں کی زندگیاں خراب نہ ہوں اور شرعی حکم کے مطابق معاملہ طے ہو جائے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مسئلہ بہت زیادہ الجھا ہوا ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس عورت نے نکاح پر نکاح کیا، جو شرعاً حرام ہے۔
جہاں تک بچوں کا معاملہ ہے، اس وقت یہ بحث شاید مناسب نہیں کیونکہ جو پچھلا نکاح تھا بغیر ولی کے کیا گیا، اس کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ لہٰذا بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس مرد کے ساتھ نکاح دوبارہ کروا دیا جائے اور بچوں کو کچھ نہ بتایا جائے کیونکہ بچوں کا تو کوئی قصور نہیں، غلطی والدہ کی ہے تو یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ غلطی والدین کی بھی ہے، جنہوں نے 12 سال پہلے نکاح کروا دیا جبکہ انہیں معلوم تھا کہ بیٹی نے پہلے سے یہ کام (نکاح) کیا ہوا تھا۔
اسی طریقے سے مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے، ورنہ حالات انتہائی نامساعد ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ