سوال        6758

رسول اللہ صلی علیہ السلام نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آجائے۔ (سنن ابن ماجہ: 1651)
کیا یہ حدیث ضعیف ہے؟

جواب

بعض علماء نے اس کو قبول کیا ہے۔ بعض نے بحث کی ہے، کلام کیا ہے اس پہ کلام ہے۔ البتہ اس کے لئے کوئی سختی نہیں ہے۔ وہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتا ہے، نذر کا کوئی روزہ اس نے پورا کرنا ہے، چھوٹے ہوئے رمضان کے روزے پورے کرنے ہیں۔ اس کے لئے اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سنن ابن ماجہ میں 1651 نمبر پر حدیث ہے کہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ))

یعنی: جب شعبان آدھا گزر جائے تو پھر رمضان آنے تک روزے مت رکھو۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کے راوی علاء بن عبدالرحمن پر کچھ کلام ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے بعض محدثین کے ہاں اس حدیث کا غیر صحیح ہونا بیان کیا گیا ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے حاشیہ سندی دیکھیے۔ دور حاضر کے جید محقق الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو ضعیف روایات کے اشاریے میں ذکر نہیں کیا، دیکھیے انوار الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ من السنن الاربعۃ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

فضیلۃ العالم امان اللہ عاصم حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ منکر روایت ہے۔ آئمہ علل کی جرح ہے۔
ترمذی #738

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا بَقِيَ نِصْفٌ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا تَصُومُوا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب آدھا شعبان رہ جائے تو روزہ نہ رکھو۔
یہ علاء بن عبدالرحمن کی منکرات میں سے ہے۔
[الكامل في ضعفاء الرجال# ٥/‏٥٠١]
1نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے کی ممانعت نہیں۔
2 البتہ رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے رکھنا منع ہے۔
صحیح بخاری#1914
کتاب: روزے کا بیان
باب: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں۔

‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ.

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔
البتہ جو شعبان کے شروع یا درمیان سے ہی روزے رکھ رہا ہو تو وہ آخری دو دنوں میں بھی رکھ لے تو حرج نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

راجح اس روایت کا منکر و غیر محفوظ ہونا ہی ہے، ائمہ علل ونقاد نے یہی حکم صادر فرمایا ہے۔
البتہ خاص نصف شعبان کو روزہ رکھنا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے، نہ ہی اس رات کی کوئی فضیلت باسند صحیح ثابت ہے۔
اور شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا ثابت ہے البتہ وہ شخص آخری ایام میں ترک کر دے جسے لگتا ہو کہ رمضان کے روزے رکھنا مشکل ہو گا
اور باقی توضیح فاضل بھائی نے کر دی ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے“۔ [سنن ابن ماجه كتاب الصيام /حديث: 1651]
اس حدیث کی سند دارالدعوۃ سے ہے: سنن ابی داؤد، روزہ 12 (2337)، سنن الترمذی، روزہ 38 (738)، (تحفۃ الاشرف: 14051، 14095)، اور اسے سنن الفارعین نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح)۔
وضاحت: یہ بات عام امت کے لئے ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے، کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی، اس لئے روزہ آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے روزوں کے لئے برقرار رہے۔
شیخ البانی نے کہا: صحیح، شیخ زبیر علی زئی نے کہا: اس کا سلسلہ سند مستند ہے۔

جواب: حديث أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا انتصف شعبان، فلا تصوموا..
أخرجه أبو داود (2326)، والترمذي (738)، والنسائي في الكبرى (3117)، وابن ماجه (1651).
خلاصة الحديث: هذا الحديث صححه الترمذي( )، وغير واحد.
وهو معل بتفرد من لم يحتمل منه تفرده، تفرد به العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، ولمخالفة ومعارضة متنه للأحاديث الصحيحة المتفق عليها.
وأعله عبد الرحمن بن مهدي( )، ويحيى بن معين( )، وأحمد بن حنبل( )، وأبو زرعة الرازي( )، وأبو داود( )، والأثرم( )، والنسائي( )، وأبو عوانة( )، وأبو يعلى الخليلي( )، والبيهقي( )، والمنذري( )، والذهبي( )، وابن القيم( )، وابن رجب الحنبلي( )، وابن حجر( )، وغيرهم.
( ) السنن للترمذي (738).
( ) السنن لأبي داود (2326)، ومسائل أحمد لأبي داود (2002)..
( ) سؤالات ابن الجنيد لابن معين (616)، والاستذكار لابن عبد البر (14711).
( ) المسائل لحرب الكرماني (2092)، والمغني لابن قدامة (4/ 327)، والفروسية لابن القيم (ص188)، .
( ) سؤالات البرذعي لأبي زرعة الرازي (143).
( ) السنن لأبي داود (2326).
( ) لطائف المعارف (ص69).
( ) الكبرى للنسائي (3117).
( ) المستخرج لأبي عوانة قبل (2912).
( ) الإرشاد لأبي يعلى الخليلي (20).
( ) الكبير للبيهقي (8/ 435).
( ) مختصر سنن أبي داود (2/ 94).
( ) سير أعلام النبلاء (6/ 187).
( ) تهذيب سنن أبي داود (10/ 293).
( ) لطائف المعارف (ص69).
( ) فتح الباري (4/ 129).

ہم نے ان ائمہ کا حکم بھیجا ہے جن کے نزدیک یہ روایت معلول ومنکر ہے۔
باقی جو صحیح مانتے ہیں وہ بھی اہل علم ہی ہیں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ