“نمازِ عیدین سے پہلے اذان واقامت اور ندا نہ ہونا”
اس بارے میں گفتگو درجِ ذیل چار نکات کے ضمن میں ملاحظہ فرمائیے:
ا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدین بلا اذان و اقامت پڑھائی۔ امام مسلم نے
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے، کہ انھوں نے فرمایا:
صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانَ وَلَا إِقَامَةِ (صحیح مسلم،کتاب صلاة العیدین)
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز ایک دو مرتبہ نہیں، متعدد مرتبہ، بلا اذان و اقامت پڑھی۔
ب: جب حضرت ابن زبیر کی بیعتِ خلافت ہوئی، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھم نے انھیں اس سنت پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ امام مسلم نے عطاء سے روایت نقل کی ہے، کہ جب ابن الزبیر کی بیعت ہوئی، تو ابن عباس رضی اللہ عنھم نے انھیں یہ پیغام بھیجا:
انه لم يكُن يُؤذن للصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَلَا تُوَدِّنُ لَهَا (صحیح مسلم)
عید الفطر کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی، سو تم بھی اس کے لیے
اذان نہ دینا۔
امام مالک اس بارے میں فرماتے ہیں:
أَنَّهُ سَمِعَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ عُلْمَائِهِمْ يَقُولُ: “لَمْ يَكُنْ فِي عيد الفطر، ولا في الأصحَى نِدَاءٌ، وَلَا إِقَامَةٌ مُنْذُ زَمَانِ رَسُولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى الْيَوْمِ (المؤطا، کتاب العیدین)
انھوں نے اپنے کئی ایک علماء سے سنا: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں نہ اذان ہے اور نہ اقامت۔
اس کے بعد امام مالک رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں:
وَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِی لَا إِخْتَلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا (المرجع السابق)
اور یہ ایسی سنت ہے، کہ اس کے بارے میں ہمارے ہاں کوئی اختلاف نہیں۔
ج: اذان واقامت کے علاوہ نماز عیدین کے لیے کوئی اور ندا یا بلا دینا سنت سے ثابت نہیں۔
امام مسلم نے عطاء سے روایت بیان کی ہے، کہ انھوں نے کہا، کہ: “مجھے جابر
بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما نے خبر دی، کہ
أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ، وَلَا بَعْدَ ما يَخْرُجُ ، وَلا إِقَامَةَ، وَلَا نِدَاءَ، وَلَا شَيْءٍ، لَا نِدَاء یَوْمَئِذٍ ، وَلَا إِقَامَةً (صحیح مسلم، کتاب صلاة العیدین)
عید الفطر کے دن نماز کے لیے اذان نہیں، نہ امام کے نکلنے کے وقت، اور نہ اس کے نکلنے کے بعد، اور نہ تو اقامت ہے اور نہ ندا، اور نہ کچھ اور۔
اس دن ندا نہیں ہے اور نہ اقامت۔
د: بعض حضرات کی رائے میں نمازِ عیدین کے لیے
الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ
(نماز کھڑی ہو رہی ہے)
کے الفاظ کے ساتھ آواز لگائی جائے۔
امام ابن قدامہ نے اس بارے میں بڑا عمدہ ، مؤثر اور مختصر تبصرہ بایں الفاظ کیا ہے:
وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَبَّعُ (المغنی: ٢٦٨/٣)
اتباع کا سب سے زیادہ حق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔
امام ابن قیم اس بارے میں تحریر کرتے ہیں:
وَكَانَ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْمُصَلَّى أَخَذَ فِي الصَّلَاةِ مِنْ غَيْرِ أَذَانِ ، وَلَا إِقَامَةٍ ، وَلَا قَوْلِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، وَالسَّنَةُ أَنْ لَا يُفْعَلَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ (زاد المعاد: ٤٤٢/١)
انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب عید گاہ تشریف لے آتے، تو اذان، اقامت اور الصلاة جامعة کے الفاظ کے بغیر نماز شروع کر دیتے اور سنت یہی ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کی جائے۔
سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ اس بارے میں تحریر کرتے ہیں۔
إن النداء العِيدِ بِدْعَةٌ بِأَيِّ لَفْظ كَانَ، وَاللَّهُ أَعْلَم۔
ملاحظہ ہو: ھامش فتح الباری للشیخ ابنِ باز ٤٥٢/٢
“عید کے لیے کسی بھی لفظ کے ساتھ نداء کرنا یقینا بدعت ہے۔ واللہ اعلم
اقتباس: مسائلِ عیدین، از پروفیسر ڈاکٹر فضل الہیٰ حفظہ اللہ (صفحات: ٤٣-٤٧)
✍️ یاسر مسعود بھٹی



