سوال           6928

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاته!
محترم شیخ بچی کے پیدائش کے بعد اس کے بال کٹوانے کا شرعی حکم اور طریقہ او وقت بتائیں۔
اور اگر بچی کے پیدائش کا چالیس دن پورے ہو جائے اور اس کے بال کٹوائے نہ ہو تو کیا یہ بات درست ہے کہ پھر اس کے ماں کا نماز وغیرہ عبادات قبول نہیں ہوتے؟
اور شیخ محترم کیا اگر چالیس دن یا اس سے زیادہ وقت گزر جائے تو کیا اس کے بعد بھی پیدائشی بال کٹوانا لازم ہے؟
جزاکم اللہ خیرا کثیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عمومی طور پہ یہ سارے کام ساتویں دن کیے جاتے ہیں عقیقے کے موقع پر۔ لیکن کوئی لازم نہیں ہے کہ عقیقہ اور بال کاٹنے کا عمل ساتھ ساتھ ہو، فرض نہیں ہے۔ تو جیسے سہولت ہو، بچے کی تکلیف اور بیماری کو دیکھ کے، کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن ایک دفعہ اس کا سر منڈوا دینا چاہیے۔ باقی اس کی ماں کی عبادت کا، اس کے باپ کی عبادت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اگر سنت کے مطابق عمل کرتے ہیں تو ان کا عمل ان شاءاللہ اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ