سوال 7027

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم کہتے ہیں کہ چھوٹا بچہ جو ابھی پیدا ہوتا ہے، اس کے کپڑے تار پر نہیں ڈالنے چاہیں، رات ٹائم چھت پر نہیں ڈالنے چاہیں ورنہ بچہ روتا ہے بہت شریر اثرات ہوجاتے ہیں۔
کیا ہم ان باتوں کو بدشگونی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے متعلق قرآن اور حدیث سے رہنمائی فرمادیں۔ شکریہ

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو لوگ یہ بتاتیں بناتے ہیں ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ ایسے کم علم لوگوں کو مزید بد عقیدہ کرنے والی بات ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

یہ تمام نظریات محض وہم اور بدشگونی پر مبنی ہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ نے تین بار کافی زور دے کر فرمایا ہے کہ: ’’الطیرۃ شرک‘‘
“بدشگونی شرک ہے”۔ اس طرح کی باتیں ہمارے عقیدہِ توحید کے خلاف ہیں اور انسان کے ایمان کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو عام کریں تاکہ لوگوں کی سوچ بدلی جا سکے اور معاشرے کی اصلاح ہو سکے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ