سوال (6535)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اونٹ کو شیطان سے پیدا کیا گیا ہے، ہر اونٹ کے ساتھ ایک شیطان ہو تا ہے”

جواب

اونٹ کی تخلیق شیطان میں سے ہوئی ہے، اس کو اس طرح علماء نے بیان کیا ہے، بعض نے اس کی یہ توجیہ بیان کی ہے، کہ اس کی طبیعت میں شیطانیت ہے، کسی بھی ٹائیم پر اس سے حادثہ صادر ہو سکتا ہے، اس وجہ سے یوں کہا گیا ہے کہ اس کی پیدائش شیطان میں سے ہوئی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت تو بعض احادیث صحیحہ سے ثابت ہے مگر جن روایتوں میں۔۔۔
ﻓﺈﻧﻬﺎ ﺧﻠﻘﺖ ﻣﻦ اﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ کا اضافہ ہے یہ غیر محفوظ ہغیر ثابت ہے۔
سنن ابن ماجہ: (769) وغیرہ کی روایت حسن بصری کے عنعنہ کے سبب ضعیف ہے ہر وہ طریق وسند جس میں یہ الفاظ ہیں وہاں سماع کی صراحت نہیں ہے۔
اور حدیث براء (سنن أبو داود: 184) میں یہ زیادت فإنها من الشياطين غیر محفوظ و شاذ ہے۔
کہ ابو معاویہ گو اعمش سے أثبت ہیں روایت میں مگر ان کے برعکس امیر المومنین فی الحدیث امام سفیان ثوری ( مصنف عبد الرزاق:1596 ،مسند أحمد بن حنبل: 18703)، صحیح ابن حبان: 1128)، امام شعبہ (مسند الطیالسی: 770 دوسرا نسخہ: 734، السنن الکبری للبیھقی: 739)، امام عبد الله بن إدريس ( شرح معانی الآثار: 2262، محاضر الہمدانی صحیح ابن خزیمہ: (32) اس زیادت کو بیان نہیں کرتے ہیں۔
بلکہ بعض طریق میں تو ابو معاویہ بھی یہ زیادت بیان نہیں کرتے ( مصنف ابن أبي شيبة: 3919)
اس مختصر توضیح سے معلوم ہوا کہ یہ زیادت محفوظ نہیں ہے اور یہ توضیح ائمہ علل ونقاد کے منہج تعامل کے مطابق ہے۔ اور اگر اسے محفوظ مانیں تو اس سے حقیقی تخلیق مراد نہیں ہے بلکہ وہ مراد ہے جو امام ابن حبان وغیرہ سلف صالحین نے بیان کی ہے۔
امام ابن حبان کہتے ہیں:

ﻗﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻓﺈﻧﻬﺎ ﺧﻠﻘﺖ ﻣﻦ اﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ ﺃﺭاﺩ ﺑﻪ ﺃﻥ ﻣﻌﻬﺎ اﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ ﻭﻫﻜﺬا ﻗﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻓﻠﻴﺪﺭﺃﻩ ﻣﺎ اﺳﺘﻄﺎﻉ ﻓﺈﻥ ﺃﺑﻰ ﻓﻠﻴﻘﺎﺗﻠﻪ ﻓﺈﻧﻪ ﺷﻴﻄﺎﻥ” ﺛﻢ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ ﺧﺒﺮ ﺻﺪﻗﺔ ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ ﻋﻦ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ: ﻓﻠﻴﻘﺎﺗﻠﻪ ﻓﺈﻥ ﻣﻌﻪ اﻟﻘﺮﻳﻦ، صحیح ابن حبان بعد: (1702)
اور کہا: ﻟﻮ ﻛﺎﻥ اﻟﺰﺟﺮ ﻋﻦ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻲ
ﺃﻋﻄﺎﻥ اﻹﺑﻞ ﻷﺟﻞ ﺃﻧﻬﺎ ﺧﻠﻘﺖ ﻣﻦ اﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ ﻟﻢ ﻳﺼﻞ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻠﻰ اﻟﺒﻌﻴﺮ ﺇﺫ ﻣﺤﺎﻝ ﺃﻥ ﻻ ﺗﺠﻮﺯ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻲ اﻟﻤﻮاﺿﻊ اﻟﺘﻲ ﻗﺪ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻴﻬﺎ اﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﺛﻢ ﺗﺠﻮﺯ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﻧﻔﺴﻪ ﺑﻞ ﻣﻌﻨﻰ ﻗﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: “ﺇﻧﻬﺎ ﺧﻠﻘﺖ ﻣﻦ اﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ” ﺃﺭاﺩ ﺑﻪ ﺃﻥ ﻣﻌﻬﺎ اﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ ﻋﻠﻰ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﻤﺠﺎﻭﺭﺓ ﻭاﻟﻘﺮﺏ، صحیح ابن حبان بعد: (1704) والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ